Recitation
Next: (End of Surah)
Arabic
لَا يُكَلِّفُ ٱللَّهُ نَفۡسًا إِلَّا وُسۡعَهَاۚ لَهَا مَا كَسَبَتۡ وَعَلَيۡهَا مَا ٱكۡتَسَبَتۡۗ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذۡنَآ إِن نَّسِينَآ أَوۡ أَخۡطَأۡنَاۚ رَبَّنَا وَلَا تَحۡمِلۡ عَلَيۡنَآ إِصۡرٗا كَمَا حَمَلۡتَهُۥ عَلَى ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِنَاۚ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلۡنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِۦۖ وَٱعۡفُ عَنَّا وَٱغۡفِرۡ لَنَا وَٱرۡحَمۡنَآۚ أَنتَ مَوۡلَىٰنَا فَٱنصُرۡنَا عَلَى ٱلۡقَوۡمِ ٱلۡكَٰفِرِينَ
Urdu
اللہ کسی متنفس پر اُس کی مقدرت سے بڑھ کر ذمہ داری کا بوجھ نہیں ڈالتا ہر شخص نے جو نیکی کمائی ہے، اس کا پھل اسی کے لیے ہے اور جو بدی سمیٹی ہے، اس کا وبال اسی پر ہے (ایمان لانے والو! تم یوں دعا کیا کرو) اے ہمارے رب! ہم سے بھول چوک میں جو قصور ہو جائیں، ان پر گرفت نہ کر مالک! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال، جو تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالے تھے پروردگار! جس بار کو اٹھانے کی طاقت ہم میں نہیں ہے، وہ ہم پر نہ رکھ، ہمارے ساتھ نرمی کر، ہم سے در گزر فرما، ہم پر رحم کر، تو ہمارا مولیٰ ہے، کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد کر
English
Allah does not charge a soul except [with that within] its capacity. It will have [the consequence of] what [good] it has gained, and it will bear [the consequence of] what [evil] it has earned. “Our Lord, do not impose blame upon us if we have forgotten or erred. Our Lord, and lay not upon us a burden like that which You laid upon those before us. Our Lord, and burden us not with that which we have no ability to bear. And pardon us; and forgive us; and have mercy upon us. You are our protector, so give us victory over the disbelieving people
Tafsir — Bayan ul Quran
کائنات کی ہر چیز اللہ کے زیر حکم ہے۔ ذرہ سے لے کر ستاروں تک سب خدا کے مقررہ نقشہ میں بندھے ہوئے ہیں۔ وہ اسی راستہ پر چل رہے ہیں جس پر چلنے کے لیے خدا نے ان کو پابند کردیا ہے۔ مگر انسان ایک ایسی مخلوق ہے جو اپنے کو خود مختار حالت میں پاتا ہے۔ بظاہر وہ آزاد ہے کہ اپنی مرضی سے جو راستہ چاہے اختیار کرے۔ مگر انسان کی آزادی مطلق نہیں ہے بلکہ امتحان کے لیے ہے۔ انسان کو بھی کائنات کے بقیہ اجزاء کی طرح خدا کی پابندی کرنی ہے۔ جس پابند زندگی کو بقیہ کائنات نے بزور اختیار کیا ہے وہی پابند زندگی انسان کو اپنے ارادہ سے اختیار کرنا ہے۔ انسان کو ظاہری صورت حال سے دھوکا کھا کر یہ نہ سمجھنا چاہيے کہ اس کے آگے پیچھے کوئی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی ہر وقت مالک کائنات کی نظر میں ہے، وہ اس کی ہر چھوٹی بڑی بات کی نگرانی کررہاہے خواہ وہ اس کے اندر ہو یا اس کے باہر۔ وہ کون سا انسان ہے جو اللہ کو مطلوب ہے۔ وہ ایمان اور اطاعت والا انسان ہے۔ ایمان سے مراد آدمی کی شعوری حوالگی ہے اور اطاعت سے مراد اس کی عملی حوالگی۔ شعور کے اعتبار سے یہ مطلوب ہے کہ آدمی اللہ کو اپنے خالق اور مالک کی حیثیت سے اپنے اندر اتار لے۔ وہ اس حقیقت کو پاگیا ہو کہ کائنات کا نظام کوئی بے روح مشینی نظام نہیں ہے بلکہ ایک زندہ نظام ہے جس کو خدا اپنے فرماں بردار کارندوں کے ذریعہ چلا رہا ہے۔ اس نے خدا کے بندوں میں سے ان بندوں کو پہچان لیا ہو جن کو خدا نے اپنا پیغام پہنچانے کے لیے چنا۔ خدا نے انسانوں کی ہدایت کے لیے جو کتاب اتاری ہے اس کو وہ حقیقی معنوں میں اپنے فکر وخیال کا جزء بنا چکا ہو۔ رسالت اور پیغمبری اس کو پوری انسانی تاریخ میں ایک مسلسل واقعہ کی صورت میں نظر آنے لگے۔ ایمانیات کو اس طرح اپنے دل ودماغ میں بٹھا لینے کے بعد وہ اپنی زندگی ہمہ تن اس کے نقشہ پر ڈھال دے۔ پھر یہ ایمان واطاعت اس کے لیے کوئی رسمی اور ظاہری معاملہ نہ ہو بلکہ وہ اس کی روح کو اس طرح گھلا دے کہ وہ اللہ کو پکارنے لگے۔ اس کا وجود خدا کی یاد میں ڈھل جائے۔ اس کی زندگی تمام تر خدا کے اوپر نربھر ہوجائے۔
Connections
- Previous: 2_285
- Next: (End of Surah)
- Thematic: (add links here)