Recitation
Next: 20_11
Arabic
إِذۡ رَءَا نَارٗا فَقَالَ لِأَهۡلِهِ ٱمۡكُثُوٓاْ إِنِّيٓ ءَانَسۡتُ نَارٗا لَّعَلِّيٓ ءَاتِيكُم مِّنۡهَا بِقَبَسٍ أَوۡ أَجِدُ عَلَى ٱلنَّارِ هُدٗى
Urdu
جب کہ اس نے ایک آگ دیکھی اور اپنے گھر والوں سے کہا کہ ” ذرا ٹھیرو، میں نے ایک آگ دیکھی ہے، شاید کہ تمہارے لیے ایک آدھ انگارا لے آؤں، یا اِس آگ پر مجھے (راستے کے متعلق) کوئی رہنمائی مل جائے
English
When he saw a fire and said to his family, “Stay here; indeed, I have perceived a fire; perhaps I can bring you a torch or find at the fire some guidance
Tafsir — Bayan ul Quran
حضرت موسیٰ مصر میں پیدا ہوئے۔ وہاں ایک موقع پر ایک قبطی ان کے ہاتھ سے ہلاک ہوگیا۔ اس کے بعد وہ مصر سے نکل کر مدین چلے گئے۔ وہاں وہ کئی سال تک رہے۔ وہیں ایک خاتون سے نکاح کیا اور پھر اپنی اہلیہ کو لے کر واپس مصر کے لیے روانہ ہوئے۔ اس وقت آپ کے ساتھ بکریاں بھی تھیں۔ حضرت موسیٰ اس سفر میں جزیرہ نمائے سینا کے جنوب میں وادی طور کے علاقہ سے گزر رہے تھے۔ رات ہوئی تو تاریکی میں راستہ کا اندازہ نہیں ہورہا تھا۔ مزید یہ کہ یہ سخت سردی کا موسم تھا۔ اسی دوران انھیں دکھائی دیاکہ دور ایک آگ جل رہی ہے۔ یہ دیکھ کر حضرت موسیٰ اس کے رخ پر روانہ ہوئے تاکہ سردی کا مقابلہ کرنے کے لیے آگ حاصل کریں اور وہاں کچھ لوگ ہوں تو ان سے راستہ معلوم کریں۔