Recitation

Next: 21_53


Arabic

إِذۡ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوۡمِهِۦ مَا هَٰذِهِ ٱلتَّمَاثِيلُ ٱلَّتِيٓ أَنتُمۡ لَهَا عَٰكِفُونَ


Urdu

یاد کرو وہ موقع جبکہ اُس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا تھا کہ “یہ مورتیں کیسی ہیں جن کے تم لوگ گرویدہ ہو رہے ہو؟


English

When he said to his father and his people, “What are these statues to which you are devoted


Tafsir — Bayan ul Quran

خدا کے یہاں فیض بقدرِ استعداد کا اصول ہے۔ حضرت ابراہیم نے مختلف امتحانات سے گزر کر جس استعداد کا ثبوت دیا تھا اس کو خدا نے جانا اور اس کے مطابق ان کو ہدایت اور معرفت عطا فرمائی۔ یہی معاملہ خدا کا اپنے ہر بندے کے ساتھ ہے۔ حضرت ابراہیم عراق کے قدیم شہر اُر میں پیدا ہوئے۔ اس وقت یہاں کی زندگی میں پوری طرح شرک چھایا ہوا تھا۔مشرکانہ ماحول میں پرورش پانے کہ باوجود وہ اس سے متاثر نہیں ہوئے۔ انھوں نے چیزوں کو خود اپنی عقل سے جانچا اور ماحول کے علی الرغم توحید کی صداقت کو پالیا۔ وہ ایسی دنیا میں تھے جہاں ہر قسم کی عزت اور ترقی شرک سے وابستہ ہو گئی تھی۔ مگر انھوں نے کسی چیز کی پروا نہیں کی۔ تمام مصلحتوں سے بے نیاز ہو کر قوم کی روش پر تنقید کی اور اس کے سامنے حق کا اعلان کرنے کے ليے کھڑے ہو گئے— یہی وہ صفات ہیں جو کسی شخص کو اس قابل بناتی ہیں کہ اس کو خدا کی ہدایت حاصل ہو۔


Connections

  • Previous: 21_51
  • Next: 21_53
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes