Recitation
Next: 21_86
Arabic
وَإِسۡمَٰعِيلَ وَإِدۡرِيسَ وَذَا ٱلۡكِفۡلِۖ كُلّٞ مِّنَ ٱلصَّـٰبِرِينَ
Urdu
اور یہی نعمت اسماعیلؑ اور ادریسؑ اور ذوالکفلؑ کو دی کہ یہ سب صابر لوگ تھے
English
And [mention] Ishmael and Idrees and Dhul-Kifl; all were of the patient
Tafsir — Bayan ul Quran
حضرت اسماعیل حضرت ابراہیم کے صاحب زادے تھے۔ کچھ مفسرین نے حضرت ادریس سے وہ پیغمبر مراد لیا ہے جن کا ذکر بائبل میں حنوک (Enoch) کے نام سے آیا ہے۔ اسی طرح حضرت ذوالکفل سے مراد غالباً وہ نبی ہیں جو بائبل میں حزقی ایل کے نام سے مذکور ہوئے ہیں۔ ان پیغمبروں کی نمایاں صفت صبر بتائی گئی ہے۔ اس کی وجہ يه هے كه صبر تمام خدا پرستانہ اعمال کی بنیاد ہے۔ صبر کا مطلب اپنے آپ کو رد عمل کی نفسیات سے بچانا ہے۔ جو شخص اپنے آپ کو رد عمل کی نفسیات سے نہ بچائے وہ امتحان کی اس دنیا میں کبھی خداکی پسندیدہ زندگی پر قائم نہیں ہوسکتا۔حقیقت یہ ہے کہ صبر خدا کی تمام رحمتوں کا دروازہ ہے، اس دنیا میں بھی اور موت کے بعد آنے والی دوسری دنیا میں بھی۔