Recitation
Next: 22_15
Arabic
إِنَّ ٱللَّهَ يُدۡخِلُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ جَنَّـٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُۚ إِنَّ ٱللَّهَ يَفۡعَلُ مَا يُرِيدُ
Urdu
(اِس کے برعکس) اللہ اُن لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے، یقیناً ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اللہ کرتا ہے جو کچھ چاہتا ہے
English
Indeed, Allah will admit those who believe and do righteous deeds to gardens beneath which rivers flow. Indeed, Allah does what He intends
Tafsir — Bayan ul Quran
خدا کو چھوڑنا ہمیشہ غیرخدا پر بھروسہ کی وجہ سے ہوتا ہے۔ جب بھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک آدمی خدا کے سچے راستہ سے ہٹتا ہے یا اس کو نظر انداز کرتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ خدا کے سوا کسی اور چیز پر بھروسہ کيے ہوئے ہوتاہے۔ یہ غیر خدا کبھی کوئی بت ہوتاہے اور کبھی بت کے سوا کوئی دوسری چیز۔ مگر اس دنیا میں ایک خدا کے سوا کسی کو کوئی طاقت حاصل نہیں۔ اس ليے آدمی جب خدا کے سوا دوسروں پر بھروسہ کرتا ہے تو وہ طاقت ور کو چھوڑ کر ایسی موہوم چیز کا سہارا پکڑتا ہے جس کا بحیثیت طاقت کوئی وجودنہیں۔ اس سے زیادہ بھول کی بات اور کیا ہوسکتی ہے۔ مزید یہ کہ اپنے آپ کو خدا کے ساتھ وابستہ کرنا صرف ضرورت کا تقاضا نہیں ہے بلکہ وہ حقیقت کا تقاضا بھی ہے۔ وہ انسان کے اوپر خدا کا حق ہے۔ اس لیے جب آدمی خدا کو چھوڑ کر موہوم چیزوں کی طرف جاتا ہے تو اس کا نقصان فوراً اس کے لیے مقدر ہوجاتا ہے۔ اور جہاں تک اس کے نفع کا سوا ل ہے وہ تو کبھی ملنے والا نہیں۔ غیر خدا کو سہارا بنانے والے بظاہر اس کو اپنے سے اونچا سمجھتے ہیں۔ ورنہ وہ اس کو سہارا ہی نہ بنائیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ غیر خدا جس کو سہارا بنایا جائے اور وہ لوگ جو انھیں اپناسہارا بنائیں دونوں یکساں درجہ میں مجبور اور بے طاقت ہیں۔ ایسی دنیا میں جو لوگ اس کا ثبوت دیں کہ انھوں نے ماحول سے اوپر اٹھ کر سوچا۔ غیر خداؤں کے پرفریب ہجوم میں انھوں نے خداکو دریافت کیا۔ اورپھر صرف آخرت کی خاطر اپنی زندگی کو خدا کی پسند کے راستے پر ڈال دیا وہ اس دنیا کی سب سے قیمتی روحیں ہیں۔ خدا ان کی اس طرح قدر دانی کرے گا کہ ان کو جنت کی کامل دنیا میں بسائے گا۔ جہاں وہ ابدی طور پر عیش کرتے رہیں۔