Recitation
Next: 22_18
Arabic
إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَٱلَّذِينَ هَادُواْ وَٱلصَّـٰبِـِٔينَ وَٱلنَّصَٰرَىٰ وَٱلۡمَجُوسَ وَٱلَّذِينَ أَشۡرَكُوٓاْ إِنَّ ٱللَّهَ يَفۡصِلُ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ شَهِيدٌ
Urdu
جو لوگ ایمان لائے، اور جو یہودی ہوئے، اور صابئی، اور نصاریٰ، اور مجوس، اور جن لوگوں نے شرک کیا، ان سب کے درمیان اللہ قیامت کے روز فیصلہ کر دے گا، ہر چیز اللہ کی نظر میں ہے
English
Indeed, those who have believed and those who were Jews and the Sabeans and the Christians and the Magians and those who associated with Allah - Allah will judge between them on the Day of Resurrection. Indeed Allah is, over all things, Witness
Tafsir — Bayan ul Quran
اس آیت میں چھ مذہبی گروہوں کا ذکر ہے— مسلمان، یہودی، صابئی، نصاریٰ، مجوس اور مشرکین مکہ۔ یہودی حضرت موسیٰ کو ماننے والے لوگ ہیں۔ اسی طرح صابئی حضرت یحيىٰ کو ماننے والے تھے۔ نصاریٰ حضرت عیسیٰ کو، مجوس زرتشت کو اور مشرکین حضرت ابراہیم کو۔ یہ سارے لوگ ابتداء ً توحید پرست تھے۔مگر بعد کو انھوں نے اپنے دین میں بگاڑ پیدا کرلیا۔ اور اب وہ اسی بگڑے ہوئے دین پر قائم ہیں۔ مسلمانوں کاحال بھی عملاً ایسا ہوسکتا ہے۔ مسلمانوں کی کتاب اگر چہ محفوظ ہے۔ مگر امتحان کی اس دنیا میں ان کے ہاتھ اس سے بندھے ہوئے نہیں ہیں کہ وہ قرآن وسنت کی خود ساختہ تشریح کرکے اپنا ایک دین بنائیں اور اس خود ساختہ دین پر قائم ہو کر سمجھیں کہ وہ خدا کے دین پر قائم ہیں۔ خدا کا اصل دین ایک ہے۔ مگر لوگوں کی اپنی تشریحات میں وہ ہمیشہ مختلف ہوجاتا ہے۔ اس لیے جب لوگ خدا کے اصل دین پر ہوں تو ان کے درمیان اتحاد فروغ پاتا ہے۔ مگر جب لوگ خود ساختہ دین پر چلنے لگیں تو ہمیشہ ان کے درمیان مذہبی اختلافات پیدا ہوجاتے ہیں۔ یہ اختلافات لامتناہی طورپر بڑھتے ہیں۔ وہ کبھی ختم نہیں ہوتے۔ تاہم اللہ تعالیٰ کو ہر شخص کا حال پوری طرح معلوم ہے۔ وہ قیامت میں بتادے گا کہ کون حق پر تھا اور کون ناحق پر۔