Recitation

Next: 22_26


Arabic

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِ ٱلَّذِي جَعَلۡنَٰهُ لِلنَّاسِ سَوَآءً ٱلۡعَٰكِفُ فِيهِ وَٱلۡبَادِۚ وَمَن يُرِدۡ فِيهِ بِإِلۡحَادِۭ بِظُلۡمٖ نُّذِقۡهُ مِنۡ عَذَابٍ أَلِيمٖ


Urdu

جن لوگوں نے کفر کیا اور جو (آج) اللہ کے راستے سے روک رہے ہیں اور اُس مسجدِ حرام کی زیارت میں مانع ہیں جسے ہم نے سب لوگوں کے لیے بنایا ہے، جس میں مقامی باشندوں اور باہر سے آنے والوں کے حقوق برابر ہیں (اُن کی روش یقیناً سزا کی مستحق ہے) اِس (مسجدِ حرام) میں جو بھی راستی سے ہٹ کر ظلم کا طریقہ اختیار کرے گا اسے ہم درد ناک عذاب کا مزا چکھائیں گے


English

Indeed, those who have disbelieved and avert [people] from the way of Allah and [from] al-Masjid al-Haram, which We made for the people - equal are the resident therein and one from outside; and [also] whoever intends [a deed] therein of deviation [in religion] or wrongdoing - We will make him taste of a painful punishment


Tafsir — Bayan ul Quran

حق کا انکار کرنے کی ایک مثال وہ ہے جو قدیم مکہ میں پیش آئی۔ مکہ کے لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انتہائی پر امن تبلیغ کو بھی برداشت نہیں کیا۔ انھوںنے آپ کے اوپر پابندیاں لگائیں۔ آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو یک طرفہ طورپر ظلم کا نشانہ بنایا حتی کہ انھوںنے یہ ظلم بھی کیا کہ آپ کو اور آپ کے اصحاب کو مسجد حرام میں داخل ہونے سے روکا۔ مکہ کے لوگوں کی یہ روش انکار پر سرکشی کا اضافہ تھی۔ جو لوگ ایسے ظالمانہ رویہ کا ثبوت دیں ان کے ليے خدا کے یہاں سخت ترین سزا ہے، خواہ وہ ماضی کے ظالم لوگ ہوں یا حال کے ظالم لوگ۔ اور خواہ ان کی سرکشی کا تعلق حضرت ابراہیم کی تعمیر کردہ مسجد سے ہو یا اس وسیع تر ’’مسجد‘‘ سے جس کو خدا نے زمین کی صورت میں اپنے تمام بندوں کے ليے بنایا ہے۔


Connections

  • Previous: 22_24
  • Next: 22_26
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes