Recitation
Next: 22_33
Arabic
ذَٰلِكَۖ وَمَن يُعَظِّمۡ شَعَـٰٓئِرَ ٱللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقۡوَى ٱلۡقُلُوبِ
Urdu
یہ ہے اصل معاملہ (اسے سمجھ لو)، اور جو اللہ کے مقرر کردہ شعائر کا احترام کرے تو یہ دلوں کے تقویٰ سے ہے
English
That [is so]. And whoever honors the symbols of Allah - indeed, it is from the piety of hearts
Tafsir — Bayan ul Quran
شعیرہ (جمع شعائر) کے معنی علامت (symbol) کے ہیں۔اسلام کی جو عبادات ہیں، ان کا ایک ظاہری پہلو ہے اور ایک اندرونی پہلو۔ اندرونی پہلو عبادت کا اصل ہے۔ اور جو ظاہری پہلو ہے وہ اسی اندرونی پہلو کی علامت، یا شعیرہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو شعائر مقرر کيے ہیں، ان کا حق اس طرح ادا نہیں ہوسکتا کہ ظاہری طورپر ان کی تعظیم کرلی جائے۔ ان کا حق ادا کرنے کے ليے دل کا تقویٰ مطلوب ہے۔ ہدی ونیاز کے جانور شعائر اللہ میں سے ہیں۔ وہ ایک حقیقت کی علامت ہیں، نہ کہ وہ بذات خود حقیقت ہے۔ ان جانور کو رنگنا یا اس کا اہتمام کرنا کہ ان پر سواری نہ کی جائے، ان سے کسی قسم کا فائدہ نہ اٹھایا جائے، یہ وہ چیزیں نہیں ہیں جن سے اللہ خوش ہوتاہو۔ اللہ کی خوشنودی اس میں ہے کہ جو کچھ کیا جائے اللہ کے لیے کیا جائے۔ اللہ کے یہاں قلبی حالت کی قدر ہے، نہ کہ محض ظاہری حالت کی۔