Recitation

Next: 22_49


Arabic

وَكَأَيِّن مِّن قَرۡيَةٍ أَمۡلَيۡتُ لَهَا وَهِيَ ظَالِمَةٞ ثُمَّ أَخَذۡتُهَا وَإِلَيَّ ٱلۡمَصِيرُ


Urdu

کتنی ہی بستیاں ہیں جو ظالم تھیں، میں نے ان کو پہلے مہلت دی، پھر پکڑ لیا اور سب کو واپس تو میرے پاس ہی آنا ہے


English

And for how many a city did I prolong enjoyment while it was committing wrong. Then I seized it, and to Me is the [final] destination


Tafsir — Bayan ul Quran

اس دنیا میں کوئی شخص یا قوم اگر سرکشی کرے تو خدا ضرور اس کو پکڑتا ہے۔ مگر خدا کبھی پکڑنے میں جلدی نہیں کرتا۔ انسان ایک دن میں بے برداشت ہوسکتا ہے مگر خدا ایک ہزار سال تک بھی بے برداشت نہیں ہوتا۔ خدا نافرمانیوں کو دیکھتاہے پھر بھی لمبی مدت تک لوگوں کو موقع دیتا ہے تاکہ اگر وہ اصلاح کرنے والے ہوں تو اپنی اصلاح کرلیں۔ خدا کسی فرد یا قوم کو صرف اس وقت پکڑتاہے جب کہ وہ آخری طورپر اپنا مجرم ہونا ثابت کرچکے ہوں۔ پچھلے لوگوں کے ساتھ خدا نے یہی معاملہ کیا۔ آئندہ کے لوگوں کے ساتھ بھی خداا پنی اسی سنّت کے تحت معاملہ فرمائے گا۔


Connections

  • Previous: 22_47
  • Next: 22_49
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes