Recitation

Next: 22_54


Arabic

لِّيَجۡعَلَ مَا يُلۡقِي ٱلشَّيۡطَٰنُ فِتۡنَةٗ لِّلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٞ وَٱلۡقَاسِيَةِ قُلُوبُهُمۡۗ وَإِنَّ ٱلظَّـٰلِمِينَ لَفِي شِقَاقِۭ بَعِيدٖ


Urdu

(وہ اس لیے ایسا ہونے دیتا ہے) تاکہ شیطان کی ڈالی ہُوئی خرابی کو فتنہ بنا دے اُن لوگوں کے لیے جن کے دلوں کو (نفاق کا) روگ لگا ہُوا ہے اور جن کے دل کھوٹے ہیں حقیقت یہ ہے کہ یہ ظالم لوگ عناد میں بہت دور نکل گئے ہیں


English

[That is] so He may make what Satan throws in a trial for those within whose hearts is disease and those hard of heart. And indeed, the wrongdoers are in extreme dissension


Tafsir — Bayan ul Quran

حق کا داعی خواہ وہ پیغمبر ہو یا غیر پیغمبر، اس کے ساتھ ہمیشہ یہ پیش آتا ہے کہ جب وہ خدا کی سچی بات کا اعلان کرتا ہے تو معاندین اس کی بات میں طرح طرح کے شوشے نکالتے ہیں تاکہ لوگوں کو اس کی صداقت کی بارے میں مشتبہ کردیں۔ اس طرح کے شوشے ہمیشہ بے بنیاد ہوتے ہیں۔ جب وہ پیش کيے جاتے ہیں تو داعی کو موقع ملتا ہے کہ وہ ان کی وضاحت کرکے اپنی بات کو اور زیادہ ثابت شدہ بنادے۔ اس سے مخلص لوگوں کے یقین میں اضافہ ہوتاہے۔ اس کے بعد خدا کے ساتھ ان کا تعلق اور زیادہ مضبوط ہوجاتا ہے۔ مگر جو لوگ مخلصانہ شعور سے خالی ہوتے ہیں، یہ شوشے ان کے ليے فتنہ بن جاتے ہیں۔ وہ ان کے فریب میں مبتلا ہو کر حق سے دور چلے جاتے ہیں۔ ’’اللہ ایمان والوں کوضرور صراط مستقیم دکھاتاہے‘‘— اس کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ جو لوگ فی الواقع ایمان کے معاملے میں سنجیدہ ہوں وہ کبھی جھوٹے پروپیگنڈوں سے متاثر نہیں ہوتے۔ وہ الفاظ کے طلسم سے کبھی دھوکا نہیںکھاتے۔ ان کا ایمان ان کے ليے ایسا علم بن جاتا ہے جو باتوں کو ان کی گہرائی کے ساتھ جان لے، نہ کہ محض باتوں کے ظواہر میں اٹک کر رہ جائے۔


Connections

  • Previous: 22_52
  • Next: 22_54
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes