Recitation

Next: 23_111


Arabic

فَٱتَّخَذۡتُمُوهُمۡ سِخۡرِيًّا حَتَّىٰٓ أَنسَوۡكُمۡ ذِكۡرِي وَكُنتُم مِّنۡهُمۡ تَضۡحَكُونَ


Urdu

تو تم نے ان کا مذاق بنا لیا یہاں تک کہ اُن کی ضد نے تمہیں یہ بھی بھُلا دیا کہ میں بھی کوئی ہوں، اور تم ان پر ہنستے رہے


English

But you took them in mockery to the point that they made you forget My remembrance, and you used to laugh at them


Tafsir — Bayan ul Quran

دنیا کی زندگی میں جب کہ ابھی آخرت کے حقائق آنکھوں کے سامنے نہیں آئے تھے۔ اس وقت خدا کے کچھ بندوں نے خدا کو اس کے جلال وکمال کے ساتھ پہچانا۔ ان کے سامنے حق کی دعوت مجرد دلائل کی سطح پر آئی۔ اس کے باوجود انھوں نے اس پر یقین کیا۔وہ اس کے بارے میں اس حد تک سنجیدہ ہوئے کہ اسی کو اپنی کامیابی اور ناکامی کا معیار بنا لیا۔ ایک اجنبی حق کے ساتھ اپنی کامل وابستگی کی انھیں یہ قیمت دینی پڑی کہ ماحول میں وہ مذاق کا موضوع بن گئے۔ اس کے باوجود انھوں نے اس سے اپنی وابستگی کو ختم نہیں کیا۔ یہ فکری استقامت ہی سب سے بڑا صبر ہے اور آخرت کا انعام آدمی کو اسی صبر کی قیمت میں ملتا ہے۔ وہی لوگ در اصل کامیاب ہیں جو موجودہ امتحان کی دنیا میں اس صبر کا ثبوت دے سکیں۔


Connections

Tafsir Notes