Recitation

Next: 23_76


Arabic

۞وَلَوۡ رَحِمۡنَٰهُمۡ وَكَشَفۡنَا مَا بِهِم مِّن ضُرّٖ لَّلَجُّواْ فِي طُغۡيَٰنِهِمۡ يَعۡمَهُونَ


Urdu

اگر ہم اِن پر رحم کریں اور وہ تکلیف جس میں آج کل یہ مبتلا ہیں دُور کر دیں تو یہ اپنی سرکشی میں بالکل ہی بہک جائیں گے


English

And even if We gave them mercy and removed what was upon them of affliction, they would persist in their transgression, wandering blindly


Tafsir — Bayan ul Quran

مکی دور میں جب قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کورد کردیا تو اللہ تعالیٰ نے چند سال کے ليے مکہ والوں کو قحط میں مبتلا کردیا۔ یہ قحط اتنا شدید تھا کہ بہت سے لوگ مردار کھانے پر مجبور ہوگئے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی ایک عام سنت ہے کہ جب کوئی گروہی سرکشی اختیار کرتا ہے اور نصیحت قبول کرنے پر تیارنہیںہوتا تو وہ اس گروہ پر تنبیہی عذاب بھیجتا ہے تاکہ ان کے دل نرم ہوں اور وہ حق بات کی طرف دھیان دے سکیں۔ مگر تاریخ کا تجربہ ہے کہ انسان نہ اچھے حالات سے سبق لیتا هے اور نہ برے حالات سے۔ دونوں قسم کے حالات کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ آدمی اللہ کی طرف رجوع کرے۔ مگر انسان یہ کرتا ہے کہ وہ اچھے حالات کو اپنی تدبیر کا نتیجہ سمجھ لیتاہے اور برے حالات کو زمانہ کے الٹ پھیر کا۔ اس طرح وہ دونوں ہی قسم کے واقعات سے سبق لینے سے محروم رہتا ہے۔ آدمی اسی طرح غفلت میں پڑا رہتا ہے يہاں تک کہ خدا کا آخری فیصلہ آجاتا ہے۔ اس وقت وہ حیران رہ جاتا ہے کہ وہ چیز جس کو اس نے غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کردیا تھا وہی اس دنیا کی سب سے بڑی اور سب سے اہم حقیقت تھی۔


Connections

  • Previous: 23_74
  • Next: 23_76
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes