Recitation

Next: 23_83


Arabic

قَالُوٓاْ أَءِذَا مِتۡنَا وَكُنَّا تُرَابٗا وَعِظَٰمًا أَءِنَّا لَمَبۡعُوثُونَ


Urdu

یہ کہتے ہیں “کیا جب ہم مر کر مٹی ہو جائیں گے اور ہڈیوں کا پنجر بن کر رہ جائیں گے تو ہم کو پھر زندہ کر کے اٹھایا جائے گا؟


English

They said, “When we have died and become dust and bones, are we indeed to be resurrected


Tafsir — Bayan ul Quran

انسان کو عقل دی گئی ہے۔ عقل کے اندر یہ صلاحیت ہے کہ وہ معاملات کی گہرائی میں داخل ہو اور اصل حقیقت کو دریافت کرکے اس کو سمجھ سکے۔ مگر بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ انسان حقیقی معنوں میں اپنی عقل کو استعمال کرے۔ وہ بس ظاہری تأثر کے تحت ایک رائے قائم کرلیتا ہے اور اس کو دہرانے لگتا ہے۔ ماضی کے لوگ بھی ایسا کرتے رہے اور حال کے لوگ بھی یہی کررہے ہیں۔ موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کا شعوری یا لفظی انکار کرنے والے بہت کم ہوتے ہیں۔ زیادہ تر لوگوں کو اس عقیدے کا عملی منکر کہاجاسکتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو رسمی طورپر زندگی بعد موت کو مانتے ہوئے عملاً ایسی زندگی گزارتے ہیں جیسے کہ انھیں اس پر یقین نہ ہو کہ مرنے کے بعد وہ دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔ اور جس طرح آج وہ ہوش وحواس کے ساتھ زندہ ہیں، اسی طرح دوبارہ ہوش وحواس اس کے ساتھ زندہ ہو کر خدا کے سامنے پیش ہوں گے۔


Connections

  • Previous: 23_81
  • Next: 23_83
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes