Recitation
Next: 23_87
Arabic
قُلۡ مَن رَّبُّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ ٱلسَّبۡعِ وَرَبُّ ٱلۡعَرۡشِ ٱلۡعَظِيمِ
Urdu
ان سے پوچھو، ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کا مالک کون ہے؟
English
Say, “Who is Lord of the seven heavens and Lord of the Great Throne
Tafsir — Bayan ul Quran
ان آیات میں اس تضادِ فکر کا تذکرہ ہے جس میں ہر دور کے بیشتر لوگ مبتلا رہے ہیں۔ خواہ وہ مشرک ہوں یا غیر مشرک۔ بظاہر خدا کو ایک ماننے والے ہوں یا کئی ماننے والے۔ بیشتر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ اس بات کو مانتے ہیں کہ زمین وآسمان کا خالق ایک اللہ ہے۔ وہی اس کا مالک ہے۔ وہی اس کو چلا رہا ہے۔ تمام بر تر اختیارات اسی کو حاصل ہیں۔ مگر اس ماننے کا جو لازمی تقاضا ہے اس کا کوئی اثر ان کی زندگیوں میں نہیں پایا جاتا۔ اس عظیم اقرار کا تقاضا ہے کہ وہی ان کی سوچ بن جائے۔ خدا کا احساس ان کے اندر خوف بن کر داخل ہوجائے۔ ان کے اندر یہ مادہ پیدا ہو کہ ان کے سامنے حق آئے تو وہ فوراً اس کا اعتراف کرلیں۔ ان کی زندگی پوری کی پوری اسی میں ڈھل جائے۔ مگر یہ سب کچھ نہیں ہوتا۔ وہ اگرچہ عقیدہ کے طورپر خدا کو مانتے ہیں مگر ان کا عقیدۂ خدا الگ رہتا ہے اور ان کی حقیقی زندگی الگ۔ خدا کا تصور انسان کو مسحور نہیں کرتا۔ البتہ دوسری چیزیں اس کی نظر میں اتنی اہم بن جاتی ہیں جن سے وہ مسحور ہو کر رہ جائے۔ کیسا عجیب ہے انسان کا معاملہ۔