Recitation

Next: 23_92


Arabic

مَا ٱتَّخَذَ ٱللَّهُ مِن وَلَدٖ وَمَا كَانَ مَعَهُۥ مِنۡ إِلَٰهٍۚ إِذٗا لَّذَهَبَ كُلُّ إِلَٰهِۭ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعۡضُهُمۡ عَلَىٰ بَعۡضٖۚ سُبۡحَٰنَ ٱللَّهِ عَمَّا يَصِفُونَ


Urdu

اللہ نے کسی کو اپنی اولاد نہیں بنایا ہے اور کوئی دوسرا خدا اُس کے ساتھ نہیں ہے اگر ایسا ہوتا تو ہر خدا اپنی خلق کو لے کر الگ ہو جاتا، اور پھر وہ ایک دوسرے پر چڑھ دوڑتے پاک ہے اللہ ان باتوں سے جو یہ لوگ بناتے ہیں


English

Allah has not taken any son, nor has there ever been with Him any deity. [If there had been], then each deity would have taken what it created, and some of them would have sought to overcome others. Exalted is Allah above what they describe [concerning Him]


Tafsir — Bayan ul Quran

اقتدار کی یہ فطرت ہے کہ وہ تقسیم کو گوارا نہیں کرتا۔ انسانوں میں جب بھی کئی صاحب اقتدار ہوں تو وہ آپس میں ایک دوسرے کو زیر کرنے یا نیچا دکھانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ حتی کہ جو قومیں مختلف دیوتاؤں کو مانتی ہیں ان کی میتھا لوجی میں کثرت سے دکھایا گیا ہے کہ ایک دیوتا اور دوسرے دیوتا میں لڑائیاں جاری ہیں۔ کائنات میں اس صورت حال کی موجود گی کہ اس کے ایک حصہ اور اس کے دوسرے حصہ میں کوئی ٹکراؤ نہیںہوتا، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہر حصہ کا خدا ایک ہی ہے۔ اگر ہر حصہ کے الگ الگ خداہوتے تو ہر حصہ کا خدا اپنے حصہ کو لے کر الگ ہوجاتا اور اس کے نتیجہ میں کائنات کے مختلف حصوں کی موجودہ ہم آہنگی باقی نہ رہتی۔ مختلف خداؤں کی کشاکش میں کائنات کا نظام درہم برہم ہوجاتا۔ایسی حالت میں توحید کا نظریہ سراپا سچائی ہے اور شرک کا نظریہ سراپا جھوٹ۔


Connections

  • Previous: 23_90
  • Next: 23_92
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes