Recitation

Next: 24_12


Arabic

إِنَّ ٱلَّذِينَ جَآءُو بِٱلۡإِفۡكِ عُصۡبَةٞ مِّنكُمۡۚ لَا تَحۡسَبُوهُ شَرّٗا لَّكُمۖ بَلۡ هُوَ خَيۡرٞ لَّكُمۡۚ لِكُلِّ ٱمۡرِيٕٖ مِّنۡهُم مَّا ٱكۡتَسَبَ مِنَ ٱلۡإِثۡمِۚ وَٱلَّذِي تَوَلَّىٰ كِبۡرَهُۥ مِنۡهُمۡ لَهُۥ عَذَابٌ عَظِيمٞ


Urdu

جو لوگ یہ بہتان گھڑ لائے ہیں وہ تمہارے ہی اندر کا ایک ٹولہ ہیں اس واقعے کو اپنے حق میں شر نہ سمجھو بلکہ یہ بھی تمہارے لیے خیر ہی ہے جس نے اس میں جتنا حصہ لیا اس نے اتنا ہی گناہ سمیٹا اور جس شخص نے اِس کی ذمہ داری کا بڑا حصہ اپنے سر لیا اس کے لیے تو عذاب عظیم ہے


English

Indeed, those who came with falsehood are a group among you. Do not think it bad for you; rather it is good for you. For every person among them is what [punishment] he has earned from the sin, and he who took upon himself the greater portion thereof - for him is a great punishment


Tafsir — Bayan ul Quran

داعی اگر واقعۃ ً سچائی پر ہے تو اس کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے ہمیشہ اس کے حق میں مفید ثابت ہوتے ہیں کیوں کہ جھو ٹے پروپیگنڈوں کی حقیقت آخر کا رکھل کر رہتی ہے۔ اور جب حقیقت کھلتی ہے تو ایک طرف داعی کا برسر حق ہونا اور زیادہ واضح ہوجاتا ہے اور جو لوگ اس کے بارے میں مذبذب تھے وہ اس کے بعد یقین کے درجہ تک پہنچ جاتے ہیں۔ وہ عملاً دیکھ لیتے ہیں کہ داعیٔ حق کے مخالفین کے پاس جھوٹے الزام اور بے بنیاد اتہام کے سوا اور کچھ نہیں۔ حضرت عائشہ ؓصدیقہ کے خلاف الزام میں سب سے بڑا حصہ لینے والا مشہور منافق عبد اللہ بن ابی تھا۔ اس کے ليے قرآن میں سخت اخروی عذاب کا اعلان کیاگیا۔ مگر دنیا میں اس کو کوئی سزا نہیں دی گئی، یہاں تک کہ وہ اپنی طبعی موت مرگیا۔اس واقعہ کے بعد حضرت عمرؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اس شخص کو قتل کردیا جائے۔ آپ نے فرمایا اے عمرؓ، کیا ہوگا جب لوگ کہیں گے کہ محمدؐ اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں (فَكَيْفَ يَا عُمَرُ إذَا تَحَدَّثَ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ) سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 291 ۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بعض اوقات حکمت کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ بڑے بڑے مجرمین کو بھی دنیا میں سزا نہ دی جائے بلکہ ان کے معاملہ کو آخرت کے اوپر چھوڑ دیا جائے۔


Connections

  • Previous: 24_10
  • Next: 24_12
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes