Recitation
Next: 24_23
Arabic
وَلَا يَأۡتَلِ أُوْلُواْ ٱلۡفَضۡلِ مِنكُمۡ وَٱلسَّعَةِ أَن يُؤۡتُوٓاْ أُوْلِي ٱلۡقُرۡبَىٰ وَٱلۡمَسَٰكِينَ وَٱلۡمُهَٰجِرِينَ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِۖ وَلۡيَعۡفُواْ وَلۡيَصۡفَحُوٓاْۗ أَلَا تُحِبُّونَ أَن يَغۡفِرَ ٱللَّهُ لَكُمۡۚ وَٱللَّهُ غَفُورٞ رَّحِيمٌ
Urdu
تم میں سے جو لوگ صاحب فضل اور صاحب مقدرت ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھا بیٹھیں کہ اپنے رشتہ دار، مسکین اور مہاجر فی سبیل اللہ لوگوں کی مدد نہ کریں گے انہیں معاف کر دینا چاہیے اور درگزر کرنا چاہیے کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں معاف کرے؟ اور اللہ کی صفت یہ ہے کہ وہ غفور اور رحیم ہے
English
And let not those of virtue among you and wealth swear not to give [aid] to their relatives and the needy and the emigrants for the cause of Allah, and let them pardon and overlook. Would you not like that Allah should forgive you? And Allah is Forgiving and Merciful
Tafsir — Bayan ul Quran
حضرت عائشہ کے خلاف طوفان اٹھانے والوں میں ایک صاحب مسطح بن اُثاثہ تھے۔ وہ ایک مفلس مہاجر تھے اور حضرت ابوبکر کے دور کے رشتہ دار تھے۔ حضرت ابوبکر اعانت کے طورپر ان کو کچھ رقم دیا کرتے تھے۔ حضرت عائشہ ابوبکر کی صاحب زادی تھیں۔ قدرتی طورپر حضرت ابو بکر کو مسطح بن اثاثہ کے عمل سے تکلیف ہوئی۔ آپ نے قسم کھالی کہ وہ آئندہ مسطح کی کوئی مدد نہ کریںگے۔ اسلام میں محتاجوں کی مدد ان کی محتاجی کی بنیاد پر ہوتی ہے، نہ کہ کسی اور بنیاد پر۔ چنانچہ قرآن میں یہ حکم اترا کہ تم میں سے جو لوگ صاحب مال ہیں وہ ذاتی شکایت کی بنا پر بے مال لوگوں کی امداد بند نہ کریں۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ خداتم کو معاف کردے۔ اگر تم اپنے ليے خدا سے معافی کے امیدوار ہو تو تمھیں بھی دوسروں کے بارے میں معافی کا طریقہ اختیار کرنا چاہيے۔ یہ آیت سن کر حضرت ابوبکر نے کہا بَلَى وَاَللهِ، إنِّي لَأُحِبُّ أَنْ يَغْفِرَ اللهُ لِي (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 303-4)۔ ہاں، خدا کی قسم، میں پسند کرتا ہوں کہ اللہ مجھے معاف کردے۔ اور دوبارہ مسطح کی امداد جاری کردی۔ مومن کی نظر میں سب سے زیادہ اہمیت خدا کے حکم کی ہوتی ہے۔ خدا کا حکم سامنے آتے ہی وہ فوراً جھک جاتا ہے، خواہ خدا کا حکم اس کی خواہش کے سراسر خلاف کیوں نہ ہو۔