Recitation

Next: 24_28


Arabic

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَدۡخُلُواْ بُيُوتًا غَيۡرَ بُيُوتِكُمۡ حَتَّىٰ تَسۡتَأۡنِسُواْ وَتُسَلِّمُواْ عَلَىٰٓ أَهۡلِهَاۚ ذَٰلِكُمۡ خَيۡرٞ لَّكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَذَكَّرُونَ


Urdu

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو جب تک کہ گھر والوں کی رضا نہ لے لو اور گھر والوں پر سلام نہ بھیج لو، یہ طریقہ تمہارے لیے بہتر ہے توقع ہے کہ تم اس کا خیال رکھو گے


English

O you who have believed, do not enter houses other than your own houses until you ascertain welcome and greet their inhabitants. That is best for you; perhaps you will be reminded


Tafsir — Bayan ul Quran

اجتماعی زندگی میں اکثر ملاقات کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اب ایک طریقہ یہ ہے کہ آدمی بلا اطلاع کسی کے یہاں پہنچے اور اچانک اس کے مکان کے اندر داخل ہوجائے۔ یہ طریقہ دونوں ہی کے لیے تکلیف کا باعث ہے۔ اس ليے پیشگی اجازت کو ملاقات کے آداب میں شامل کیاگیا۔ اگر ممکن ہو تو بہتر طریقہ یہ ہے کہ اپنے گھر سے روانہ ہونے سے پہلے صاحب ملاقات سے ربط قائم کیا جائے اور اس سے پیشگی طورپر ملاقات کا وقت مقرر کرلیا جائے۔ اور پھر جب آدمی اس کے مکان پر پہنچے تو اندر داخل ہونے سے پہلے اس کی باقاعدہ اجازت لے۔ تمدنی حالات کے لحاظ سے اس اجازت کے مختلف طریقے ہوسکتے ہیں۔ تاہم ہر طریقہ میںاسلامی شائستگی کی شرط موجود رہنا ضروری ہے۔ اسلام اجتماعی زندگی کے تمام معاملات کو اعلیٰ ظرفی کی بنیاد پر قائم کرنا چاہتا ہے۔ یہی اعلیٰ ظرفی ملاقات کے معاملہ میں بھی مطلوب ہے۔ اگر آپ کسی سے ملنے کے ليے اس کے گھر جائیں، اور صاحب خانہ کسی وجہ سے اس وقت ملاقات سے معذرت کرے تو آپ کو خوش دلی کے ساتھ واپس آجانا چاہیے۔ تاہم وہ اجتماعی مقامات اس حکم سے مستثنیٰ ہیں جہاں اصولاً لوگوں کے ليے داخلہ کی عام اجازت ہوتی ہے۔


Connections

  • Previous: 24_26
  • Next: 24_28
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes