Recitation
Next: 24_61
Arabic
وَٱلۡقَوَٰعِدُ مِنَ ٱلنِّسَآءِ ٱلَّـٰتِي لَا يَرۡجُونَ نِكَاحٗا فَلَيۡسَ عَلَيۡهِنَّ جُنَاحٌ أَن يَضَعۡنَ ثِيَابَهُنَّ غَيۡرَ مُتَبَرِّجَٰتِۭ بِزِينَةٖۖ وَأَن يَسۡتَعۡفِفۡنَ خَيۡرٞ لَّهُنَّۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٞ
Urdu
اور جو عورتیں جوانی سے گزری بیٹھی ہوں، نکاح کی امیدوار نہ ہوں، وہ اگر اپنی چادریں اتار کر رکھ دیں تو اُن پر کوئی گناہ نہیں، بشرطیکہ زینت کی نمائش کرنے والی نہ ہوں تاہم وہ بھی حیاداری ہی برتیں تو اُن کے حق میں اچھا ہے، اور اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے
English
And women of post-menstrual age who have no desire for marriage - there is no blame upon them for putting aside their outer garments [but] not displaying adornment. But to modestly refrain [from that] is better for them. And Allah is Hearing and Knowing
Tafsir — Bayan ul Quran
اوپر معاشرتی احکام بیان ہوئے تھے۔ یہ آیتیں غالباً بعد کو ان کے تتمہ یا توضیح کے طورپر نازل ہوئیں۔ مثلاً اوپر (آيت 31 )عورتوں کے ليے گھر کے اندر پردہ کی جو ہدایات دی گئی ہیں ان میں یہ ہے کہ عورتیں اپنی اوڑھنی کے آنچل اپنے سینہ پر ڈال لیا کریں۔ یہاں (آیت 60) میں اس عام حکم سے ان عورتوں کو الگ کردیا گیا جو نکاح کی عمر سے گزر چکی ہوں۔ فرمایا کہ اگر وہ اوڑھنی کا اہتمام نہ کریں تو کوئی حرج نہیں۔ یہ دونوں قسم کے احکام ایک ساتھ اتر سکتے تھے۔ مگر ان کے درمیان 29 آيتوں کا فاصلہ ہے۔ ان درمیانی آيات میں دوسرے مضامین ہیں۔ جیسا کہ روایت سے معلوم ہوتاہے، ابتدائی احکام اترنے کے بعد کچھ عملی سوالات پیدا ہوئے۔ چنانچہ ان کی وضاحت میں یہ آخری آیتیں اتریں اور یہاں شامل کی گئیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کا انداز ترتیب اور تدریج کا انداز ہے، نہ کہ یکبارگی اقدام کا۔ خدا کے ليے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ تمام احکام ایک ساتھ بیک وقت نازل کردے، مگر خدا نے حالات کے اعتبار سے احکام کو بتدریج نازل فرمایا۔