Recitation

Next: 24_63


Arabic

إِنَّمَا ٱلۡمُؤۡمِنُونَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَإِذَا كَانُواْ مَعَهُۥ عَلَىٰٓ أَمۡرٖ جَامِعٖ لَّمۡ يَذۡهَبُواْ حَتَّىٰ يَسۡتَـٔۡذِنُوهُۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَسۡتَـٔۡذِنُونَكَ أُوْلَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ يُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦۚ فَإِذَا ٱسۡتَـٔۡذَنُوكَ لِبَعۡضِ شَأۡنِهِمۡ فَأۡذَن لِّمَن شِئۡتَ مِنۡهُمۡ وَٱسۡتَغۡفِرۡ لَهُمُ ٱللَّهَۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٞ


Urdu

مومن تو اصل میں وہی ہیں جو اللہ اور اُس کے رسول کو دل سے مانیں اور جب کسی اجتماعی کام کے موقع پر رسولؐ کے ساتھ ہوں تو اُس سے اجازت لیے بغیر نہ جائیں جو لوگ تم سے اجازت مانگتے ہیں وہی اللہ اور رسول کے ماننے والے ہیں، پس جب وہ اپنے کسی کام سے اجازت مانگیں تو جسے تم چاہو اجازت دے دیا کرو اور ایسے لوگوں کے حق میں اللہ سے دعائے مغفرت کیا کرو، اللہ یقیناً غفور و رحیم ہے


English

The believers are only those who believe in Allah and His Messenger and, when they are [meeting] with him for a matter of common interest, do not depart until they have asked his permission. Indeed, those who ask your permission, [O Muhammad] - those are the ones who believe in Allah and His Messenger. So when they ask your permission for something of their affairs, then give permission to whom you will among them and ask forgiveness for them of Allah. Indeed, Allah is Forgiving and Merciful


Tafsir — Bayan ul Quran

جب کچھ لوگ اپنے آپ کو اسلام کے ساتھ وابستہ کریں تو مختلف اسباب سے بار بار اس کي ضرورت پیش آتی ہے کہ انھیں اكٹھا کیا جائے۔ مثلاً مسلمانوں کے کسی مشترک معاملہ میں مشورہ کرنے کے ليے، کسی اجتماعی مہم پر لوگوں کا تعاون حاصل کرنے کے ليے، وغیرہ۔ ایسے مواقع پر یہ ہوتا ہے کہ جن لوگوں پر اپنے انفرادی تقاضے غالب ہوں وہ تھوڑی دیر کے بعد اپنی دلچسپی کھو دیتے ہیں۔ اور چاہتے ہیں کہ خاموشی کے ساتھ اٹھ کر چلے جائیں۔ یہ مزاج صحیح اسلامی مزاج نہیں۔ تاہم جو لوگ اس ذہنیت سے پاک ہوں ان میں بھی بعض ایسے افراد ہوسکتے ہیں جو کسی وقتی ضرورت کی بنا پر اجتماع کے ختم ہونے سے پہلے اٹھنا چاہیں۔ ایسے افراد کا طریقہ یہ ہوتاہے کہ وہ ذمہ دار شخصیت سے (اور رسول کے زمانہ میں رسول سے) باقاعدہ اجازت لے کر اواپس جاتے ہیں۔ نیز اگر ذمہ دار انھیں کسی وجہ سے اجازت نہ دے تو وہ کسی ناگواری کے بغیر آخر وقت تک کارروائی میں شریک رہتے ہیں۔ جو شخص مسلمانوں کے اجتماعی معاملات کا ذمہ دار ہو اس کے اندر یہ مزاج ہونا چاہیے کہ کوئی شخص اگر وقتی ضرورت کی بناپر معذرت پیش کرے تو وہ اس کی معذرت کو دل سے قبول کرے۔ اور اس کے حق میں دعا کرے که اللہ تعالیٰ اس کی مدد فرمائے۔


Connections

  • Previous: 24_61
  • Next: 24_63
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes