Recitation
Next: 25_45
Arabic
أَمۡ تَحۡسَبُ أَنَّ أَكۡثَرَهُمۡ يَسۡمَعُونَ أَوۡ يَعۡقِلُونَۚ إِنۡ هُمۡ إِلَّا كَٱلۡأَنۡعَٰمِ بَلۡ هُمۡ أَضَلُّ سَبِيلًا
Urdu
کیا تم سمجھتے ہو کہ ان میں سے اکثر لوگ سنتے اور سمجھتے ہیں؟ یہ تو جانوروں کی طرح ہیں، بلکہ اُن سے بھی گئے گزرے
English
Or do you think that most of them hear or reason? They are not except like livestock. Rather, they are [even] more astray in [their] way
Tafsir — Bayan ul Quran
ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آسمان کے سایہ کے نیچے اللہ کے سوا پوجے جانے والے معبودں میں سب سے زیادہ سنگین اللہ کے نزدیک وہ خواہش ہے جس کی پیروی کی جائے( مَا تَحْتَ ظِلِّ السَّمَاءِ مِنْ إِلَهٍ يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللهِ أَعْظَمُ مِنْ عِنْدِ اللهِ مِنْ هَوًى مُتَّبَعٍ )المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 7502۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ سب سے بڑا بت آدمی کی خواہش نفس ہے۔ بلکہ یہی اصل بت ہے۔ بقیہ تمام بت صرف خواہش پرستی کے دین کو جائز ثابت کرنے کے ليے وضع کيے گئے ہیں۔ خواہش کو اپنا رہبر بنانے کے بعد انسان اسی سطح پر آجاتا ہے جو جانوروں کی سطح ہے۔ جانور سوچ کر کوئی کام نہیں کرتے بلکہ صرف جبلّی تقاضے کے تحت کرتے ہیں۔ اب اگر انسان بھی اپنے سوچنے کی صلاحیت کو کام میں نہ لائے اور صرف خواہش نفس کے تحت چلنے لگے تو اس میں اور جانور میں کیا فرق باقی رہا۔