Recitation

Next: 25_70


Arabic

يُضَٰعَفۡ لَهُ ٱلۡعَذَابُ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ وَيَخۡلُدۡ فِيهِۦ مُهَانًا


Urdu

قیامت کے روز اس کو مکرّر عذاب دیا جائے گا اور اسی میں وہ ہمیشہ ذلت کے ساتھ پڑا رہے گا


English

Multiplied for him is the punishment on the Day of Resurrection, and he will abide therein humiliated


Tafsir — Bayan ul Quran

اِس آیت میں تین گناہوں کا ذکر ہے۔ شرک اور قتل ناحق اور زنا۔ یہ تینوں گناہ خدااور بندوں کے حق میں سب سے بڑے گناہ ہیں۔ اللہ پر حقیقی ایمان کی علامت یہ ہے کہ آدمی ان تینوں گناہوں سے دور ہو جائے جو لوگ ان گناہوں میں ملوث ہوں وہ توبہ کرکے ان کے انجام سے بچ سکتے ہیں۔ جو لوگ توبہ اور رجوع کے بغیر مرجائیں ان کے ليے خدا کے یہاں نہایت سخت سزا ہے جس سے وہ کسی حال میں بچ نہ سکیں گے۔ خدا کے نزدیک اصل نیکی یہ ہے کہ آدمی خدا سے ڈرنے والا بن جائے۔ جو نیکی آدمی کو خدا سے بے خوف کرے وہ بدی ہے۔ اور جو بدی آدمی کو خدا سے ڈرائے وہ اپنے انجام کے اعتبار سے نیکی۔ اگر ایک آدمی سے برائی ہوجائے۔ اس کے بعد اس کو خدا کی یاد آئے۔ وہ خداکی باز پرس کو سوچ کر تڑپ اٹھے اور توبہ اور استغفار کرتے ہوئے خدا کی طرف دوڑ پڑے تو خدا اپنی رحمت سے ایسی برائی کو نیکی کے خانہ میں لکھ دے گا۔ کیوں کہ وہ آدمی کو خدا کی طرف رجوع کرنے کا سبب بن گئی۔


Connections

  • Previous: 25_68
  • Next: 25_70
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes