Recitation

Next: 26_198


Arabic

أَوَلَمۡ يَكُن لَّهُمۡ ءَايَةً أَن يَعۡلَمَهُۥ عُلَمَـٰٓؤُاْ بَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ


Urdu

کیا اِن (اہلِ مکہ) کے لیے یہ کوئی نشانی نہیں ہے کہ اِسے علماء بنی اسرائیل جانتے ہیں؟


English

And has it not been a sign to them that it is recognized by the scholars of the Children of Israel


Tafsir — Bayan ul Quran

قرآن اگرچہ بظاہر ایک انسانی زبان میں ہے۔ مگر اس کی ادبی عظمت اتنی غیر معمولی ہے کہ وہ خود اپنی زبان کے اعتبار سے ایک برتر خدائی کلام ہونے کی شہادت دے رہا ہے۔ قرآن کی صداقت کا مزید ثبوت یہ ہے کہ قرآن کے نزول سے بہت پہلے پیدا ہونے والے پیغمبروں نے اس کی پیشین گوئی کی۔ یہ پیشین گوئی آج بھی تورات اور زبور اور انجیل میںموجود ہے۔ انھیں پیشین گوئیوں کی بنا پر اس زمانہ کے متعدد مسیحی اور یہودی علماء (مثلاً عبد اللہ بن سلّام) اس پر ایمان لائے۔ یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ خداکے کلام کا اس طرح خصوصی اہتمام کے ساتھ اترنا کسی بہت خصوصی مقصد کے تحت ہی ہوسکتاہے، اور وہ مقصد یہ ہے کہ انسان کو آنے والے سخت دن سے آگاہ کیا جائے۔ انذارِ آخرت پچھلی تمام آسمانی کتابوں کا بھی خاص مقصد تھا اور یہی قرآن کا بھی خاص مقصد ہے۔


Connections

Tafsir Notes