Recitation

Next: 26_37


Arabic

قَالُوٓاْ أَرۡجِهۡ وَأَخَاهُ وَٱبۡعَثۡ فِي ٱلۡمَدَآئِنِ حَٰشِرِينَ


Urdu

انہوں نے کہا “اسے اور اس کے بھائی کو روک لیجیے اور شہروں میں ہرکارے بھیج دیجیے


English

They said, “Postpone [the matter of] him and his brother and send among the cities gatherers


Tafsir — Bayan ul Quran

فرعون اور اس کے درباریوں نے حضرت موسیٰ کے معاملہ کو صرف جادوکا معاملہ سمجھا۔ اس ليے جادو کے ذریعہ ان کا مقابلہ کرنے کا منصوبہ بنایا۔ ان کی سوچ جہاں تک پہنچی وہ صرف یہ تھا کہ — موسیٰ اگر لکڑی کو سانپ بناسکتے ہیں تو ہمارے جادو گر بھی لکڑی کو سانپ بنا سکتے ہیں ۔ اس سے آگے کی انھیں خبر نہ تھی۔ وہ موسیٰ کے معاملہ کو انسان کا معاملہ سمجھتے تھے۔ اس ليے انسان کے ذریعہ اس کا توڑ کرنا چاہتے تھے۔ انھوںنے اس راز کو نہیں جانا کہ موسیٰ کا معاملہ خدا کا معاملہ ہے اور کون انسان ہے جو خدا سے ٹکر لے سکے۔ حضرت موسیٰ اور جادوگروں کے درمیان مقابلہ کے ليے مصریوں کے سالانہ قومی تہوار کا دن مقرر ہوا۔ اور اس کے ليے ایک بہت بڑے میدان کا انتخاب ہوا تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ جمع ہوں اور زیادہ سے زیادہ جادوگروں کی حوصلہ افزائی کرسکیں۔


Connections

  • Previous: 26_35
  • Next: 26_37
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes