Recitation
Next: 26_42
Arabic
فَلَمَّا جَآءَ ٱلسَّحَرَةُ قَالُواْ لِفِرۡعَوۡنَ أَئِنَّ لَنَا لَأَجۡرًا إِن كُنَّا نَحۡنُ ٱلۡغَٰلِبِينَ
Urdu
جب جادوگر میدان میں آ گئے تو انہوں نے فرعون سے کہا “ہمیں انعام تو ملے گا اگر ہم غالب رہے؟
English
And when the magicians arrived, they said to Pharaoh, “Is there indeed for us a reward if we are the predominant
Tafsir — Bayan ul Quran
فرعون اور اس کے درباریوں نے حضرت موسیٰ کے معاملہ کو صرف جادوکا معاملہ سمجھا۔ اس ليے جادو کے ذریعہ ان کا مقابلہ کرنے کا منصوبہ بنایا۔ ان کی سوچ جہاں تک پہنچی وہ صرف یہ تھا کہ — موسیٰ اگر لکڑی کو سانپ بناسکتے ہیں تو ہمارے جادو گر بھی لکڑی کو سانپ بنا سکتے ہیں ۔ اس سے آگے کی انھیں خبر نہ تھی۔ وہ موسیٰ کے معاملہ کو انسان کا معاملہ سمجھتے تھے۔ اس ليے انسان کے ذریعہ اس کا توڑ کرنا چاہتے تھے۔ انھوںنے اس راز کو نہیں جانا کہ موسیٰ کا معاملہ خدا کا معاملہ ہے اور کون انسان ہے جو خدا سے ٹکر لے سکے۔ حضرت موسیٰ اور جادوگروں کے درمیان مقابلہ کے ليے مصریوں کے سالانہ قومی تہوار کا دن مقرر ہوا۔ اور اس کے ليے ایک بہت بڑے میدان کا انتخاب ہوا تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ جمع ہوں اور زیادہ سے زیادہ جادوگروں کی حوصلہ افزائی کرسکیں۔