Recitation
Next: 26_83
Arabic
وَٱلَّذِيٓ أَطۡمَعُ أَن يَغۡفِرَ لِي خَطِيٓـَٔتِي يَوۡمَ ٱلدِّينِ
Urdu
اور جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روزِ جزا میں وہ میری خطا معاف فرما دے گا
English
And who I aspire that He will forgive me my sin on the Day of Recompense
Tafsir — Bayan ul Quran
انسان ایک مستقل ہستی کے طورپر دنیا میں آتاہے۔ اس کے اندر عقل ہے جو خیر اور شر میں فرق کرتی ہے، جو جزئیات سے کلیات اخذ کرتی ہے اور محسوسات سے معقولات تک پہنچ جاتی ہے۔ آدمی کے ليے یہاں نہایت اعلیٰ درجہ پر وہ چیزیں موجود ہیں جو اس کو مسلسل رزق فراہم کرتی ہیں۔ آدمی بیمار ہوتاہے تو وہ پاتا ہے کہ یہاں وہ اسباب بھی مکمل طورپر موجود ہیں جن سے فن علاج وجود میں آسکے۔ پھر آدمی دیکھتاہے کہ بظاہر ساری آزادی کے باوجود وہ موت کے سامنے بے بس ہے۔ وہ ایک خاص عمر کو پہنچ کر مرجاتاہے۔ ان واقعات کا تعلق ایک خدا کے سوا کسی اور سے نہیں ہوسکتا، پھر کیسے جائز ہے کہ ایک خداکے سوا کسی اور کی عبادت کی جائے۔ مزید یہ کہ اس معاملے میں آدمی کو حد درجہ سنجیدہ ہونا چاہئے۔ کیوں کہ یہی واقعات یہ اشارہ بھی کررہے ہیں کہ جو خدا یہ سب کررہاہے وہ انسان سے حساب لینے کے ليے اس کو ایک روز اپنے یہاں بلائے گا۔ موت اسی بلاوے کے عمل کا آغاز ہے۔