Recitation

Next: 27_20


Arabic

فَتَبَسَّمَ ضَاحِكٗا مِّن قَوۡلِهَا وَقَالَ رَبِّ أَوۡزِعۡنِيٓ أَنۡ أَشۡكُرَ نِعۡمَتَكَ ٱلَّتِيٓ أَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَٰلِدَيَّ وَأَنۡ أَعۡمَلَ صَٰلِحٗا تَرۡضَىٰهُ وَأَدۡخِلۡنِي بِرَحۡمَتِكَ فِي عِبَادِكَ ٱلصَّـٰلِحِينَ


Urdu

سلیمانؑ اس کی بات پر مُسکراتے ہوئے ہنس پڑا اور بولا “اے میرے رب، مجھے قابو میں رکھ کہ میں تیرے اس احسان کا شکر ادا کرتا رہوں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر کیا ہے اور ایسا عمل صالح کروں جو تجھے پسند آئے اور اپنی رحمت سے مجھ کو اپنے صالح بندوں میں داخل کر


English

So [Solomon] smiled, amused at her speech, and said, “My Lord, enable me to be grateful for Your favor which You have bestowed upon me and upon my parents and to do righteousness of which You approve. And admit me by Your mercy into [the ranks of] Your righteous servants


Tafsir — Bayan ul Quran

حضرت سلیمان علیہ السلام کے لشکر میں نہ صرف انسان تھے بلکہ جنات اور پرندے بھی آپ کی فوج میں شامل تھے۔ حضرت سلیمان کا لشکر ایک بار کسی وادی سے گزرا جہاں چیونٹیاں بہت زیادہ تھیں۔ چیونٹیوں نے غیرمعمولی طورپر آپ کے لشکر کی عظمت کا اعتراف کیا۔ چیونٹیوں نے اس موقع پر جو گفتگو کی اس کو حضرت سلیمان نے بھی سمجھ لیا۔ اس طرح کا کوئی واقعہ ایک عام انسان کو فخر وغرور میں مبتلا کرنے کے ليے کافی ہے۔ مگر حضرت سلیمان اپنے اس حال کو دیکھ کر سراپا شکر بن گئے۔ جو کچھ بظاہر خود انھیں حاصل تھا اس کو انھوںنے پورے طورپر خدا کے خانہ میں ڈال دیا — یہی ہے صالح انسان کا طریقہ۔


Connections

  • Previous: 27_18
  • Next: 27_20
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes