Recitation

Next: 27_45


Arabic

قِيلَ لَهَا ٱدۡخُلِي ٱلصَّرۡحَۖ فَلَمَّا رَأَتۡهُ حَسِبَتۡهُ لُجَّةٗ وَكَشَفَتۡ عَن سَاقَيۡهَاۚ قَالَ إِنَّهُۥ صَرۡحٞ مُّمَرَّدٞ مِّن قَوَارِيرَۗ قَالَتۡ رَبِّ إِنِّي ظَلَمۡتُ نَفۡسِي وَأَسۡلَمۡتُ مَعَ سُلَيۡمَٰنَ لِلَّهِ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ


Urdu

اس سے کہا گیا کہ محل میں داخل ہو اس نے جو دیکھا تو سمجھی کہ پانی کا حوض ہے اور اترنے کے لیے اس نے اپنے پائنچے اٹھا لیے سلیمانؑ نے کہا یہ شیشے کا چکنا فرش ہے اس پر وہ پکار اٹھی “اے میرے رب، (آج تک) میں اپنے نفس پر بڑا ظلم کرتی رہی، اور اب میں نے سلیمانؑ کے ساتھ اللہ رب العالمین کی اطاعت قبول کر لی


English

She was told, “Enter the palace.” But when she saw it, she thought it was a body of water and uncovered her shins [to wade through]. He said, “Indeed, it is a palace [whose floor is] made smooth with glass.” She said, “My Lord, indeed I have wronged myself, and I submit with Solomon to Allah, Lord of the worlds


Tafsir — Bayan ul Quran

ملکہ سبا اپنے ملک سے روانہ ہو کر بیت المقدس پہنچی۔ یہاں وہ حضرت سلیمان کے محل میں داخل ہوئی تو بالکل انجان طورپر اس کے سامنے ایک تخت لایاگیا۔ اور کہاگیا کہ دیکھو، کیا یہ تمھارا تخت ہے۔ یہ دیکھ کر وہ خدا کی قدرت پر حیران رہ گئی کہ اپنے جس تخت کو وہ مارب کے محل میں محفوظ کرکے آئی تھی وہ پراسرار طورپر ڈیڑھ ہزار میل کا فاصلہ طے کرکے بیت المقدس پہنچ گیا ہے۔ حضرت سلیمان کے محل میں داخل ہو کر ملکہ سبا ایک ایسے مقام پر پہنچی جس کا فرش صاف وشفاف شیشہ کی موٹی تختیوں سے بنایا گیا تھا اور اس کے نیچے پانی بہہ رہا تھا۔ ملکہ جب چلتے ہوئے یہاں پہنچی تو اس کو اچانک محسوس ہو ا کہ اس کے آگے پانی کا حوض ہے۔ اس وقت اس نے وہی کیا جو پانی میں اترنے والا ہر آدمی کرتاہے۔ یعنی اس نے غیر ارادی طور پر اپنے کپڑے اٹھاليے۔ اس طرح گویا کہ عملی تجربہ کی زبان میں اس کو بتایا گیا کہ انسان ظاہر کو دیکھ کر فریب کھا جاتاہے، مگر اصل حقیقت اکثر اس سے مختلف ہوتی ہے جو ظاہری آنکھوں سے دکھائی دیتی ہے۔ آدمی ظاہری طورپر سورج اور چاند کو نمایاں دیکھ کران کی پرستش کرنے لگتاہے،حالاں کہ حقیقی خدا وہ ہے جو ان ظواہر سے آگے ہے۔ ملکہ سبا اب تک قومی روایات کے زیر اثر سورج کی پرستش کررہي تھی۔ مگر حضرت سلیمان کے قریب پہنچ کر اس نے جو کچھ سنا اور جوکچھ دیکھا اس نے اس کے ذہن سے غیر اللہ کی عظمت کا یکسر خاتمہ کردیا۔ اس نے دینِ شرک کو چھوڑ دیا اور دینِ توحید کو دل وجان سے اختیار کرلیا۔


Connections

  • Previous: 27_43
  • Next: 27_45
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes