Recitation

Next: 27_87


Arabic

أَلَمۡ يَرَوۡاْ أَنَّا جَعَلۡنَا ٱلَّيۡلَ لِيَسۡكُنُواْ فِيهِ وَٱلنَّهَارَ مُبۡصِرًاۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يُؤۡمِنُونَ


Urdu

کیا ان کو سُجھائی نہ دیتا تھا کہ ہم نے رات ان کے لیے سکون حاصل کرنے کو بنائی تھی اور دن کو روشن کیا تھا؟ اسی میں بہت نشانیاں تھیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے تھے


English

Do they not see that We made the night that they may rest therein and the day giving sight? Indeed in that are signs for a people who believe


Tafsir — Bayan ul Quran

جب اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ ہوگا کہ زمین کی موجودہ تاریخ ختم کردی جائے تو آخری طورپر کچھ غیر معمولی نشانیاں ظاہر ہوں گی۔ انھیں میں سے ایک دابّہ (جانور) کا ظہور ہے۔ انسانی داعیوں کی زبان سے جو بات لوگوں نے نہیں مانی اس کا اعلان ایک غیر انسانی مخلوق کے ذریعہ کرایا جائے گا۔ تاہم یہ امتحان کا وقت ختم ہونے کا گھنٹہ ہوگا، نہ کہ امتحان کا وقت شروع ہونے کا اعلان۔ قیامت میں جب تمام لوگ حاضر ہوں گے تو ان کی جماعتیں بنائی جائیں گی۔ ماننے والے ایک طرف کردیے جائیں گے اور نہ ماننے والے دوسری طرف۔ اس کے بعد منکرین سے پوچھاجائے گاکہ تمھارے پاس کون سی علمی دلیل تھی جس کی بنا پر تم نے صداقت کا انکار کیا۔ اس وقت ان کا لاجواب ہونا ثابت کرے گا کہ ان کا انکار محض ضد اور تعصب پر مبنی تھا۔ اگر چہ اپنے کو برسرِ حق ظاہر کرنے کے ليے وہ جھوٹے دلائل پیش کیا کرتے تھے۔اس وقت ان پر کھلے گا کہ داعی کے ملفوظ کلام کے علاوہ رات اور دن بھی غیر ملفوظ زبان میں ان کو امر حق سے مطلع کررہے تھے۔ رات کی نیند گویا موت کی تمثیل تھی۔ اور صبح کا جاگنا دوبارہ جی اٹھنے کی تمثیل۔ اعلان حق کے اتنے غیر معمولی اہتمام کے باوجود وہ حق کی دریافت سے محروم رہے۔


Connections

  • Previous: 27_85
  • Next: 27_87
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes