Recitation
Next: 28_16
Arabic
وَدَخَلَ ٱلۡمَدِينَةَ عَلَىٰ حِينِ غَفۡلَةٖ مِّنۡ أَهۡلِهَا فَوَجَدَ فِيهَا رَجُلَيۡنِ يَقۡتَتِلَانِ هَٰذَا مِن شِيعَتِهِۦ وَهَٰذَا مِنۡ عَدُوِّهِۦۖ فَٱسۡتَغَٰثَهُ ٱلَّذِي مِن شِيعَتِهِۦ عَلَى ٱلَّذِي مِنۡ عَدُوِّهِۦ فَوَكَزَهُۥ مُوسَىٰ فَقَضَىٰ عَلَيۡهِۖ قَالَ هَٰذَا مِنۡ عَمَلِ ٱلشَّيۡطَٰنِۖ إِنَّهُۥ عَدُوّٞ مُّضِلّٞ مُّبِينٞ
Urdu
(ایک روز) وہ شہر میں ایسے وقت میں داخل ہوا جبکہ اہلِ شہر غفلت میں تھے وہاں اس نے دیکھا کہ دو آدمی لڑ رہے ہیں ایک اس کی اپنی قوم کا تھا اور دُوسرا اس کی دشمن قوم سے تعلق رکھتا تھا اس کی قوم کے آدمی نے دشمن قوم والے کے خلاف اسے مدد کے لیے پکارا موسیٰؑ نے اس کو ایک گھونسا مارا اور اس کا کام تمام کر دیا (یہ حرکت سرزد ہوتے ہی) موسیٰؑ نے کہا “یہ شیطان کی کارفرمائی ہے، وہ سخت دشمن اور کھلا گمراہ کن ہے
English
And he entered the city at a time of inattention by its people and found therein two men fighting: one from his faction and one from among his enemy. And the one from his faction called for help to him against the one from his enemy, so Moses struck him and [unintentionally] killed him. [Moses] said, “This is from the work of Satan. Indeed, he is a manifest, misleading enemy
Tafsir — Bayan ul Quran
پیغمبری ملنے سے پہلے کا واقعہ ہے، حضرت موسیٰ مصر کے دار السلطنت میں تھے۔ ایک روز انھوںنے دیکھا کہ ایک قبطی اور ایک اسرائیلی لڑ رہے ہیں۔ اسرائیلی نے حضرت موسیٰ کو اپنا ہم قوم سمجھ کر پکارا کہ ظالم قبطی کے مقابلہ میں میری مدد کیجيے۔ حضرت موسیٰ نے دونوں کو الگ کرنا چاہا تو قبطی آپ سے الجھ گیا۔ آپ نے دفاع کے طورپر اس کو ایک گھونسا مارا۔ وہ اتفاقاً ایسی جگہ لگا کہ قبطی مر گیا۔ قبطی قوم اس وقت بنی اسرائیل پر سخت زیادتیاں کررہی تھیں۔ ایسی حالت میں حضرت موسیٰ اگر اس واقعہ کو قومی نقطۂ نظر سے دیکھتے تو وہ اس کو مجاہدانہ کارنامہ قرار دے کر فخر کرتے۔ مگر انھیں قبطی کی موت پر شدید افسوس ہوا۔ وہ فوراً اللہ کی طرف متوجہ ہوئے اور اللہ سے معافی مانگنے لگے۔ ’’اب میں کسی مجرم کی حمایت نہیں کروں گا‘‘— اس کا مطلب یہ ہے کہ اب میں بلا تحقیق کسی کی حمایت نہیں کروں گا۔ ایک شخص کا بظاہر مظلوم فرقہ سے تعلق رکھنا یا کسی کو ظالم بتا کر اس کے خلاف مدد مانگنا یہ ثابت کرنے کے ليے کافی نہیں کہ فی الواقع بھی دوسرا شخص ظالم ہے، اور فریاد کرنے والا مظلوم۔ اس ليے صحیح طریقہ یہ ہے کہ ایسے مواقع پر اصل معاملہ کی تحقیق کی جائے اور صرف اس وقت کسی کی حمایت کی جائے جب کہ غیر جانب دارانہ تحقیق میں اس کا مظلوم ہونا ثابت ہوجائے۔