Recitation
Next: 28_31
Arabic
فَلَمَّآ أَتَىٰهَا نُودِيَ مِن شَٰطِيِٕ ٱلۡوَادِ ٱلۡأَيۡمَنِ فِي ٱلۡبُقۡعَةِ ٱلۡمُبَٰرَكَةِ مِنَ ٱلشَّجَرَةِ أَن يَٰمُوسَىٰٓ إِنِّيٓ أَنَا ٱللَّهُ رَبُّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
Urdu
وہاں پہنچا تو وادی کے داہنے کنارے پر مبارک خطے میں ایک درخت سے پکارا گیا کہ “اے موسیٰؑ، میں ہی اللہ ہوں، سارے جہان والوں کا مالک
English
But when he came to it, he was called from the right side of the valley in a blessed spot - from the tree, “O Moses, indeed I am Allah, Lord of the worlds
Tafsir — Bayan ul Quran
حضرت موسیٰ غالباً دس سال مدین میں رہے۔ اس مدت میں سابقہ فرعون مرگیا اور خاندانِ فرعون کا دوسرا شخص مصر کے تخت پر بیٹھا۔ اب آپ اپنی بیوی (اور تورات کے مطابق دو بچوں) کے ساتھ دوبارہ مصر کی طرف روانہ ہوئے۔ راستہ میں آپ پر طور کا تجربہ گزرا۔ جس خدا نے سینا کے پہاڑ پر ایک انسان سے براہِ اراست کلام کیا، وہ خدا تمام انسانوں کو بھی براہِ راست آواز دے کر اپنی مرضی سے باخبر کرسکتا ہے۔ مگر یہ خدا کا طریقہ نہیں۔ براہِ راست خطاب کا مطلب پردہ کو ہٹا دینا ہے، جب کہ امتحان کی مصلحت چاہتی ہے کہ پردہ لازماً باقی رہے۔ چنانچہ خدا اپنا براہِ راست کلام صرف کسی منتخب انسان کے اوپر اتارتا ہے اور بقیہ لوگوں کو اس کے ذریعے سے بالواسطہ طورپر اپنا پیغام پہنچاتا ہے۔