Recitation

Next: 28_40


Arabic

وَٱسۡتَكۡبَرَ هُوَ وَجُنُودُهُۥ فِي ٱلۡأَرۡضِ بِغَيۡرِ ٱلۡحَقِّ وَظَنُّوٓاْ أَنَّهُمۡ إِلَيۡنَا لَا يُرۡجَعُونَ


Urdu

اُس نے اور اس کے لشکروں نے زمین میں بغیر کسی حق کے اپنی بڑائی کا گھمنڈ کیا اور سمجھے کہ انہیں کبھی ہماری طرف پلٹنا نہیں ہے


English

And he was arrogant, he and his soldiers, in the land, without right, and they thought that they would not be returned to Us


Tafsir — Bayan ul Quran

حضرت موسیٰ کی تحریک فرد انسانی میں ربانی انقلاب برپا کرنے کی تحریک تھی۔ آپ کا مدعا یہ تھا کہ آدمی اللہ سے ڈرے اور اللہ کا بندہ بن کر دنیا میں زندگی گزارے۔ آپ کا یہی پیغام دوسرے افراد کے ليے بھی تھا اور یہی اس فرد کے ليے بھی جو ملک کے تخت پر بیٹھا ہوا تھا۔ یہ ایک عام بات ہے کہ اختیار واقتدار پاکر آدمی گھمنڈ کی نفسیات میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ یہی فرعون کا حال بھی تھا۔ حضرت موسیٰ نے فر عون کو ڈرایا کہ اگر تم متکبربن کر دنیا میں رہوگے تو خدا کی پکڑ میں آجاؤ گے۔مگر فرعون نے نصیحت قبول نہیں کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس کو ہلاک کردیاگیا۔ فرعون قدیم مشرکانہ تہذیب کا امام تھا۔ مشرکانہ تہذیب میں فرعون کو اونچا مقام حاصل تھا۔ مگر مشرکانہ تہذیب نہ صرف مصر سے بلکہ ساری دنیا سے ختم ہوگئی۔ اب دنیا کی آبادی میں زیادہ تر یا تو مسلمان ہیں یا یہودی يا عیسائی۔ اور یہ سب کے سب متفقہ طورپر فرعون کو لعنت زدہ سمجھتے ہیں۔ اب دنیا میں کوئی بھی فرعون کی عظمت کو ماننے والا نہیں۔


Connections

  • Previous: 28_38
  • Next: 28_40
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes