Recitation
Next: 28_42
Arabic
وَجَعَلۡنَٰهُمۡ أَئِمَّةٗ يَدۡعُونَ إِلَى ٱلنَّارِۖ وَيَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ لَا يُنصَرُونَ
Urdu
ہم نے انہیں جہنم کی طرف دعوت دینے والے پیش رو بنا دیا اور قیامت کے روز وہ کہیں سے کوئی مدد نہ پا سکیں گے
English
And We made them leaders inviting to the Fire, and on the Day of Resurrection they will not be helped
Tafsir — Bayan ul Quran
حضرت موسیٰ کی تحریک فرد انسانی میں ربانی انقلاب برپا کرنے کی تحریک تھی۔ آپ کا مدعا یہ تھا کہ آدمی اللہ سے ڈرے اور اللہ کا بندہ بن کر دنیا میں زندگی گزارے۔ آپ کا یہی پیغام دوسرے افراد کے ليے بھی تھا اور یہی اس فرد کے ليے بھی جو ملک کے تخت پر بیٹھا ہوا تھا۔ یہ ایک عام بات ہے کہ اختیار واقتدار پاکر آدمی گھمنڈ کی نفسیات میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ یہی فرعون کا حال بھی تھا۔ حضرت موسیٰ نے فر عون کو ڈرایا کہ اگر تم متکبربن کر دنیا میں رہوگے تو خدا کی پکڑ میں آجاؤ گے۔مگر فرعون نے نصیحت قبول نہیں کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس کو ہلاک کردیاگیا۔ فرعون قدیم مشرکانہ تہذیب کا امام تھا۔ مشرکانہ تہذیب میں فرعون کو اونچا مقام حاصل تھا۔ مگر مشرکانہ تہذیب نہ صرف مصر سے بلکہ ساری دنیا سے ختم ہوگئی۔ اب دنیا کی آبادی میں زیادہ تر یا تو مسلمان ہیں یا یہودی يا عیسائی۔ اور یہ سب کے سب متفقہ طورپر فرعون کو لعنت زدہ سمجھتے ہیں۔ اب دنیا میں کوئی بھی فرعون کی عظمت کو ماننے والا نہیں۔