Recitation
Next: 28_45
Arabic
وَمَا كُنتَ بِجَانِبِ ٱلۡغَرۡبِيِّ إِذۡ قَضَيۡنَآ إِلَىٰ مُوسَى ٱلۡأَمۡرَ وَمَا كُنتَ مِنَ ٱلشَّـٰهِدِينَ
Urdu
(اے محمدؐ) تم اُس وقت مغربی گوشے میں موجود نہ تھے جب ہم نے موسیٰؑ کو یہ فرمان شریعت عطا کیا، اور نہ تم شاہدین میں شامل تھے
English
And you, [O Muhammad], were not on the western side [of the mount] when We revealed to Moses the command, and you were not among the witnesses [to that]
Tafsir — Bayan ul Quran
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن میں حضرت موسیٰ کے واقعات اس قدر تفصیل کے ساتھ بیان کررہے تھے جیسے کہ آپ وہیں موقع پر کھڑے ہوں اور سب کچھ دیکھ اور سن رہے ہوں۔ حالاں کہ امر واقعہ یہ ہے کہ آپ حضرت موسیٰ کے دو ہزار سال بعد مکہ میں پیدا ہوئے۔ یہ اس بات کی واضح دلیل تھی کہ قرآن کا کلام خدا کا کلام ہے، کیوں کہ کوئی انسان اس طرح کے بیان پر قادر نہیں ہوسکتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں آج کل کی طرح کتابیں نہیں ہوتی تھیں۔ اس وقت حضرت موسیٰ کے واقعات کا ذکر یہود کی غیر عربی کتابوں میں تھا جن کے صرف چند نسخے یہودی عبادت خانوں میں محفوظ تھے اور یقینی طورپر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دسترس سے باہر تھے۔ مزید یہ کہ قرآن کے بیانات اور یہودی کتابوں کے بیانات میں بہت سے نہایت بامعنی فرق ہیں اور قرینہ بتاتاہے کہ قرآن کا بیان ہی زیادہ صحیح ہے۔ مثال کے طورپر حضرت موسیٰ کے ہاتھ قبطی کی موت قرآن کے بیان کے مطابق بلا قصد ہوئی۔ جب کہ بائبل موسیٰ کے بارے میں کہتی ہے ’’پھر اس نے اِدھر اُدھر نگاہ کی اور جب دیکھاکہ وہاں کوئی دوسرا آدمی نہیں ہے تو اُس مصری کو جان سے مار کر اسے ریت میں چھپا دیا ۔‘‘(خروج، 2:12 ) کھلی ہوئی بات ہے کہ حضرت موسیٰ جیسی مقدس شخصیت سے قرآن کا بیان مطابقت رکھتا ہے، نہ کہ تورات کا بیان۔ پھر رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح اس پر قادر ہوئے کہ کسی ظاہری وسیلہ کے بغیر حضرت موسیٰ کے واقعات اس قدر صحت کے ساتھ قرآن میں پیش کرسکیں۔ اس کا کوئی بھی جواب اس کے سوا نہیں ہوسکتا کہ خدائے عالم الغیب نے یہ باتیں آپ کے اوپر بذریعہ وحی نازل فرمائیں۔