Recitation
Next: 28_58
Arabic
وَقَالُوٓاْ إِن نَّتَّبِعِ ٱلۡهُدَىٰ مَعَكَ نُتَخَطَّفۡ مِنۡ أَرۡضِنَآۚ أَوَلَمۡ نُمَكِّن لَّهُمۡ حَرَمًا ءَامِنٗا يُجۡبَىٰٓ إِلَيۡهِ ثَمَرَٰتُ كُلِّ شَيۡءٖ رِّزۡقٗا مِّن لَّدُنَّا وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ
Urdu
وہ کہتے ہیں “اگر ہم تمہارے ساتھ اِس ہدایت کی پیروی اختیار کر لیں تو اپنی زمین سے اُچک لیے جائیں گے” کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے ایک پرامن حرم کو ان کے لیے جائے قیام بنا دیا جس کی طرف ہر طرح کے ثمرات کھچے چلے آتے ہیں، ہماری طرف سے رزق کے طور پر؟ مگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں
English
And they say, “If we were to follow the guidance with you, we would be swept from our land.” Have we not established for them a safe sanctuary to which are brought the fruits of all things as provision from Us? But most of them do not know
Tafsir — Bayan ul Quran
جس نظام سے آدمی کے فائدے وابستہ ہوجائیں وہ سمجھنے لگتاہے کہ مجھ کو جو کچھ مل رہا ہے وہ اسی نظام کی بدولت مل رہا ہے۔ آدمی صرف حال کے فائدوں کو جانتا ہے، وہ مستقبل کے فائدوں کو نہیں جانتا۔ یہی معاملہ قدیم مکہ کے مشرکوں کا تھا۔ انھوں نے کعبہ میں تمام عرب قبیلوں کے بت رکھ دئے تھے۔ اس طرح انھیں پورے ملک کی مذہبی سرداری حاصل ہوگئی تھی۔ اسی طرح ان بتوں کے نام پر جو نذرانے آتے تھے وہ بھی ان کی معاش کا خاص ذریعہ تھے۔ مگر یہ صرف ان کی تنگ نظری تھی۔ خدا کا رسول انھیں ایک ایسے دین کی طر ف بلا رہا تھا جو انھیں عالم کی امامت دینے والا تھا، اور وہ ایک ایسے دین کی خاطر اس کو چھوڑ رہے تھے جس کے پاس ملک کے قبیلوں کی معمولی سرداری کے سوا اور کچھ نہ تھا۔