Recitation
Next: 29_41
Arabic
فَكُلًّا أَخَذۡنَا بِذَنۢبِهِۦۖ فَمِنۡهُم مَّنۡ أَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِ حَاصِبٗا وَمِنۡهُم مَّنۡ أَخَذَتۡهُ ٱلصَّيۡحَةُ وَمِنۡهُم مَّنۡ خَسَفۡنَا بِهِ ٱلۡأَرۡضَ وَمِنۡهُم مَّنۡ أَغۡرَقۡنَاۚ وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيَظۡلِمَهُمۡ وَلَٰكِن كَانُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ يَظۡلِمُونَ
Urdu
آخر کار ہر ایک کو ہم نے اس کے گناہ میں پکڑا، پھر ان میں سے کسی پر ہم نے پتھراؤ کرنے والی ہوا بھیجی، اور کسی کو ایک زبردست دھماکے نے آ لیا، اور کسی کو ہم نے زمین میں دھسا دیا، اور کسی کو غرق کر دیا اللہ اُن پر ظلم کرنے والا نہ تھا، مگر وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے
English
So each We seized for his sin; and among them were those upon whom We sent a storm of stones, and among them were those who were seized by the blast [from the sky], and among them were those whom We caused the earth to swallow, and among them were those whom We drowned. And Allah would not have wronged them, but it was they who were wronging themselves
Tafsir — Bayan ul Quran
انبیاء کی مخاطب قوموں نے جب اپنے نبی کا انکار کیا تو ان کو زمینی اور آسمانی عذاب سے ہلاک کردیا گیا — قوم لوط پر عاصب (پتھر برسانے والی طوفانی ہوا) کا عذاب آیا۔عاد اور ثمود اور اصحاب مدین پر صیحہ (رعد وبرق) کا عذاب آیا۔ قارون کےلیے خسف (زمین میں دھنسا دینے) کا عذاب آیا۔ فرعون اور ہامان کےلیے غرق (سمندر کے پانی میں ڈبا دینے) کا عذاب آیا۔ ان تمام عذابوں کا مشترک سبب لوگوں کا گھمنڈ تھا۔ یعنی حق کی دعوت کو اس ليے نہ ماننا کہ اس کو ماننے سے اپنی بڑائی ختم ہوجائے گی۔