Recitation
Next: 29_67
Arabic
لِيَكۡفُرُواْ بِمَآ ءَاتَيۡنَٰهُمۡ وَلِيَتَمَتَّعُواْۚ فَسَوۡفَ يَعۡلَمُونَ
Urdu
تاکہ اللہ کی دی ہوئی نجات پر اس کا کفران نعمت کریں اور (حیات دنیا کے) مزے لوٹیں اچھا، عنقریب اِنہیں معلوم ہو جائے گا
English
So that they will deny what We have granted them, and they will enjoy themselves. But they are going to know
Tafsir — Bayan ul Quran
انسان کی گمراہی کا اصل سبب یہ ہے کہ وہ دنیا کی رونقوں اور دنیا کے مسائل میں اتنا گم ہوتا ہے کہ اس سے اوپر اٹھ کر سوچ نہیں پاتا۔ حقیقت کو پانے کےلیے اپنے آپ کو ظاہر سے اوپر اٹھانا پڑتا ہے۔ بیشتر لوگ اپنے آپ کو ظاہر سے اٹھا نہیں پاتے اس ليے بیشتر لوگ حقیقت کو پانے والے بھی نہیں بنتے۔ دنیا میں آدمی کو بار بار ایسے تجربات پیش آتے ہیں جو اس کو اس کا عجز یاد دلاتے ہیں۔ اس وقت اس کے تمام مصنوعی خیالات ختم ہوجاتے ہیں اور حقیقی فطرت والا انسان جاگ اٹھتا ہے۔ مگر جیسے ہی حالات معتدل ہوئے وہ دوبارہ پہلے کی طرف غافل اور سرکش بن جاتا ہے۔ انھیں نازک تجربات میں سے سفر کا وہ تجربہ ہے جس کا ذکر آیت میں کیا گیا ہے۔ آدمی کو جاننا چاہيے کہ آزادی کا یہ موقع اس کو صرف چند دن کی زندگی تک حاصل ہے۔ موت کے بعد اس کے سامنے بالکل دوسری دنیا ہوگی اور بالکل دوسرے مسائل۔