Recitation

Next: 3_119


Arabic

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَتَّخِذُواْ بِطَانَةٗ مِّن دُونِكُمۡ لَا يَأۡلُونَكُمۡ خَبَالٗا وَدُّواْ مَا عَنِتُّمۡ قَدۡ بَدَتِ ٱلۡبَغۡضَآءُ مِنۡ أَفۡوَٰهِهِمۡ وَمَا تُخۡفِي صُدُورُهُمۡ أَكۡبَرُۚ قَدۡ بَيَّنَّا لَكُمُ ٱلۡأٓيَٰتِۖ إِن كُنتُمۡ تَعۡقِلُونَ


Urdu

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اپنی جماعت کے لوگوں کے سوا دوسروں کو اپنا راز دار نہ بناؤ وہ تمہاری خرابی کے کسی موقع سے فائدہ اٹھانے میں نہیں چوکتے تمہیں جس چیز سے نقصان پہنچے وہی ان کو محبوب ہے ان کے دل کا بغض ان کے منہ سے نکلا پڑتا ہے اور جو کچھ وہ اپنے سینوں میں چھپائے ہوئے ہیں وہ اس سے شدید تر ہے ہم نے تمہیں صاف صاف ہدایات دے دی ہیں، اگر تم عقل رکھتے ہو (تو ان سے تعلق رکھنے میں احتیاط برتو گے)


English

O you who have believed, do not take as intimates those other than yourselves, for they will not spare you [any] ruin. They wish you would have hardship. Hatred has already appeared from their mouths, and what their breasts conceal is greater. We have certainly made clear to you the signs, if you will use reason


Tafsir — Bayan ul Quran

مسلمان اسی خدائی دین پر ایمان لائے تھے جو سابق اہل کتاب (یہود) کو اپنے نبیوں کے ذریعہ ملا تھا۔ دونوں کا دین اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ایک تھا۔ مگر یہود مسلمانوں کے اس قدر دشمن ہوگئے کہ مسلمان اپنی ساری خصوصیات کے باوجود ان کے نزدیک ایک کلمۂ خیر کے بھی حق دار نہ تھے۔ حتیٰ کہ مسلمانوں کو اگر کوئی تکلیف پہنچ جاتی تو وہ دل ہی دل میں خوش ہوتے۔ گویا وہ ان کو انسانی ہمدردی کا مستحق بھی نہیں سمجھتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہود نے انبیاء بنی اسرائیل کی طرف منسوب کرکے ایک خود ساختہ دین بنا رکھا تھا اور اس کے بل پر عوام میں قیادت کا مقام حاصل کيے ہوئے تھے۔ خدا کے دین میں ساری توجہ خدا کی طرف رہتی ہے۔ جب کہ خود ساختہ دین میں لوگوں کی توجہ ان افراد کی طرف لگ جاتی ہے جو اس خود ساختہ دین کے خالق اور شارح ہوں۔ایسے لوگ سچے دین کی دعوت کو کبھی گوارا نہیں کرتے۔ کیوں کہ ان کو نظر آتا ہے کہ وہ ان کو ان کے مقام عظمت سے ہٹا رہی ہے۔ جب ایسی صورت پیش آئے تو اللہ کے سچے بندوں کا کام یہ ہے کہ وہ منفی رد عمل سے بچیں اور مکمل طورپر صبر وتقویٰ پر قائم رہیں۔ صبر کا مطلب ہے ہر حال میں اپنے آپ کو حق کا پابند رکھنا، اور تقویٰ یہ ہے کہ فیصلہ کن طاقت صرف اللہ کو سمجھا جائے، نہ کہ کسی اور کو۔ مسلمان اگر اس قسم کے مثبت رویہ کا ثبوت دیں تو کسی کی دشمنی ان کو ذرا بھی نقصان نہ پہنچائے گی خواہ دشمن مقدار میں کتنے ہی زیادہ ہوں۔ تاہم اس کے ساتھ مسلمانوں کو حقیقت پسند بھی بننا چاہیے۔ ان کو اپنے دوست اور دشمن کے درمیان تمیز کرنا چاہیے تاکہ کوئی ان کی صاف دلی کا ناجائز فائدہ نہ اٹھاسکے۔ مسلمانوں کے دل میں یہود کے لیے محبت ہونا اور یہود کے دل میں مسلمانوں کے لیے محبت نہ ہونا ظاہر کرتا ہے کہ دونوں میں سے کون حق پر ہے، اور کون ناحق پر۔ اللہ سراپا رحم اور عدل ہے۔ وہ تمام انسانوں کا خالق ومالک ہے۔ اس لیے جو شخص حقیقی طورپر اللہ کو پالیتا ہے اس کا سینہ تمام خدا کے بندوں کے لیے کھل جاتا ہے۔ اس کے لیے تمام انسان یکساں طور پر اللہ کی عیال بن جاتے ہیں۔ وہ ہر ایک کے لیے وہی چاہنے لگتا ہے، جو وہ اپنے لیے چاہتا ہے۔ مگر جو لوگ اللہ کو حقیقی طورپر پائے ہوئے نہ ہوں جنھوں نے اپنی مرضی کو اللہ کی مرضی میں نہ ملایا ہو وہ صرف اپنی ذات کی سطح پر جیتے ہیں۔ ان کا سرمایۂ حیات اپنے فائدے اور اپنے گروہی تعصبات ہوتے ہیں۔ ان کا یہ مزاج ان کو ایسے لوگوں کا دشمن بنا دیتا ہے جو ان کو اپنے مفاد کے خلاف نظر آئیں، جو ان کے اپنے گروہ میں شامل نہ ہوں۔ خدا کو مانتے ہوئے وہ بھول جاتے ہیں کہ یہ دنیا خدا کی دنیا ہے۔ یہاں کسی کی کوئی تدبیر اللہ کی مشیّت کے بغیر مؤثر نہیں ہوسکتی۔


Connections

  • Previous: 3_117
  • Next: 3_119
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes