Recitation
Next: 3_200
Arabic
وَإِنَّ مِنۡ أَهۡلِ ٱلۡكِتَٰبِ لَمَن يُؤۡمِنُ بِٱللَّهِ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيۡكُمۡ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيۡهِمۡ خَٰشِعِينَ لِلَّهِ لَا يَشۡتَرُونَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ ثَمَنٗا قَلِيلًاۚ أُوْلَـٰٓئِكَ لَهُمۡ أَجۡرُهُمۡ عِندَ رَبِّهِمۡۗ إِنَّ ٱللَّهَ سَرِيعُ ٱلۡحِسَابِ
Urdu
اہل کتاب میں بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کو مانتے ہیں، اس کتاب پر ایمان لاتے ہیں جو تمہاری طرف بھیجی گئی ہے اوراُس کتاب پربھی ایمان رکھتے ہیں جو اس سے پہلے خود ان کی طرف بھیجی گئی تھی، اللہ کے آگے جھکے ہوئے ہیں، اور اللہ کی آیات کو تھوڑی سی قیمت پر بیچ نہیں دیتے ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور اللہ حساب چکانے میں دیر نہیں لگاتا
English
And indeed, among the People of the Scripture are those who believe in Allah and what was revealed to you and what was revealed to them, [being] humbly submissive to Allah. They do not exchange the verses of Allah for a small price. Those will have their reward with their Lord. Indeed, Allah is swift in account
Tafsir — Bayan ul Quran
اہلِ ایمان کی ذمہ دارانہ زندگی ان کو نفس کی آزادیوں سے محروم کردیتی ہے۔ ان کے اعلانِ حق میں بہت سے لوگوں کو اپنے وجود کی تردید دکھائی دینے لگتی ہے اور وہ ان کے دشمن بن جاتے ہیں۔ یہ صورت حال کبھی اتنی شدید ہوجاتی ہے کہ وہ اپنے وطن میں بے وطن کرديے جاتے ہیں۔ ان کو مخالفین کی ظالمانہ کارروائیوں کے مقابلہ میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔اللہ کے دین کو انھیں جان ومال کی قربانی کی قیمت پر اختیار کرنا ہوتا ہے۔ ان امتحانات میں پورا اترنے کے لیے اہل ایمان کو جو کچھ کرنا ہے وہ یہ کہ وہ دنیا کی مصلحتوں کی خاطر آخرت کی مصلحتوں کو بھول نہ جائیں۔ وہ مشکلات اور ناخوش گواریوں پر صبر کریں، وہ اپنے اندر ابھرنے والے منفی جذبات کو دبائیں اور متاثر ذہن کے تحت کوئی کارروائی نہ کریں۔ پھر ان کو باہر کے حریفوں کے مقابلے میں ثابت قدم رہنا ہے۔ یہ ثابت قدمی ہی وہ چیز ہے جو اللہ کی نصرت کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ اسی کے ساتھ ضروری ہے کہ تمام اہلِ ایمان آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ بندھے رہیں، وہ دینی جدوجہد کے لیے باہم جڑ جائیں اور ایک جان ہو کر اجتماعی قوت سے مخالف طاقتوں کا مقابلہ کریں۔ ایمان دراصل صبر کا امتحان ہے اور اس امتحان میںوہی شخص پورا اترتا ہے جو اللہ سے ڈرنے والا ہو۔ دنیا میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ خدا سے بے خوف اور آخرت سے بے پروا لوگوں کو زور اور غلبہ حاصل ہوجاتا ہے۔ ہر قسم کی عزتیں اور رونقیں ان کے گرد جمع ہوجاتی ہیں۔ دوسری طرف اہل ایمان اکثر حالات میں بے زور بنے رہتے ہیں۔ شان وشوکت کا کوئی حصہ ان کو نہیں ملتا۔ مگر یہ صورت حال انتہائی عارضی ہے۔ قیامت آتے ہی حالات بالکل بدل جائیں گے۔ بے خوفی کے راستہ سے دنیا کی عزتیں سمیٹنے والے رسوائی کے گڑھے میں پڑے ہوں گے اور خوفِ خدا کی وجہ سے بے حیثیت ہوجانے والے ہر قسم کی ابدی عزتوں اور کامیابیوں کے مالک ہوں گے۔ وہ اللہ کے مہمان ہوں گے اور اللہ کی مہمانی سے زیادہ بڑی کوئی چیز اس زمین وآسمان کے اندر نہیں۔