Recitation

Next: 3_78


Arabic

إِنَّ ٱلَّذِينَ يَشۡتَرُونَ بِعَهۡدِ ٱللَّهِ وَأَيۡمَٰنِهِمۡ ثَمَنٗا قَلِيلًا أُوْلَـٰٓئِكَ لَا خَلَٰقَ لَهُمۡ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ ٱللَّهُ وَلَا يَنظُرُ إِلَيۡهِمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمۡ وَلَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ


Urdu

رہے وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں، تو ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں، اللہ قیامت کے روز نہ اُن سے بات کرے گا نہ اُن کی طرف دیکھے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا، بلکہ اُن کے لیے تو سخت دردناک سزا ہے


English

Indeed, those who exchange the covenant of Allah and their [own] oaths for a small price will have no share in the Hereafter, and Allah will not speak to them or look at them on the Day of Resurrection, nor will He purify them; and they will have a painful punishment


Tafsir — Bayan ul Quran

ایک شخص جب ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ سے اس بات کا عہد کرتا ہے کہ وہ اس کی فرماں برداری کرے گا اور بندوں کے درمیان زندگی گزارتے ہوئے ان تمام ذمہ داریوں کو پورا کرے گا جو خدا کی شریعت کی طرف سے اس پر عائد ہوتی ہے۔ یہ ایک پابند زندگی ہے جس کو عہد کی زندگی سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ اس زندگی پر قائم ہونے کے لیے نفس کی آزادیوں کو ختم کرنا پڑتا ہے، بار بار اپنے فائدوں اور مصلحتوں کی قربانی دینی پڑتی ہے۔ اس لیے اس عہد کی زندگی کو وہی شخص نباہ سکتا ہے جو نفع نقصان سے بے نیاز ہو کر اس کو اختیار کرے۔ جس شخص کا حال یہ ہو کہ نفس پر چوٹ پڑے یا دنیا کا مفاد خطرہ میں نظر آئے تو وہ عہد خداوندی کو نظر انداز کردے اور اپنے فائدوں اور مصلحتوں کی طرف جھک جائے، اس نے گویا آخرت کو دے کر دنیا خریدی۔ جب آخرت کے پہلو اور دنیا کے پہلو میں سے کسی ایک کو لینے کا سوا ل آیا تو اس نے دنیا کے پہلو کو ترجیح دی۔ جو شخص آخرت کو اتنی بے قیمت چیز سمجھ لے وہ آخرت میںاللہ کی عنایتوں کا حق دار کس طرح ہوسکتا ہے۔ جو لوگ آخر ت کو اپنی دنیا کا سودا بنائیں وہ دین یا آخرت کے منکر نہیں ہوجاتے۔ بلکہ دین اور آخرت کے پورے اقرار کے ساتھ ایسا کرتے ہیں۔ پھر ان دو متضاد رویوں کو وہ کس طرح ایک دوسرے کے مطابق بناتے ہیں۔ اس کا ذریعہ تحریف ہے، یعنی آسمانی تعلیمات کو خود ساختہ معنی پہنانا۔ ایسے لوگ اپنی دنیا پرستانہ روش کو آخرت پسندی اور خدا پرستی ثابت کرنے کے لیے دینی تعلیمات کو اپنے مطابق ڈھال لیتے ہیں۔ کبھی خدا کے الفاظ کو بدل کر اور کبھی خدا کے الفاظ کی اپنی مفید مطلب تشریح کرکے۔ وہ اپنے آپ کو بدلنے کے بجائے کتاب الٰہی کو بدل دیتے ہیں تاکہ جو چیز کتاب الٰہی میں نہیں ہے اس کو عین کتاب الٰہی کی چیز بنا دیں، اپنی بے خدا زندگی کو باخدا زندگی ثابت کردکھائیں۔ اللہ کے نزدیک یہ بد ترین جرم ہے کہ آدمی اللہ کی طرف ایسی بات منسوب کرے جو اللہ نے نہ کہی ہو۔ کسی تعلیم کی صداقت کی سادہ اور یقینی پہچان یہ ہے کہ وہ اللہ کے بندوں کو اللہ سے ملائے، لوگوں کے خوف ومحبت کے جذبات کو بیدار کرکے اس کو اللہ کی طرف موڑ دے۔ اس کے برعکس، جو تعلیم شخصیت پرستی یا اور کوئی پرسـتی پیدا کرے، جو انسان کے نازک جذبات کا مرکز توجہ کسی غیر خدا کو بناتی ہو، اس کے متعلق سمجھنا چاہیے کہ وہ سراسر باطل ہے خواہ بظاہر اپنے اوپر اس نے حق کا لیبل کیوں نہ لگا رکھا ہو۔


Connections

  • Previous: 3_76
  • Next: 3_78
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes