Recitation

Next: 3_82


Arabic

وَإِذۡ أَخَذَ ٱللَّهُ مِيثَٰقَ ٱلنَّبِيِّـۧنَ لَمَآ ءَاتَيۡتُكُم مِّن كِتَٰبٖ وَحِكۡمَةٖ ثُمَّ جَآءَكُمۡ رَسُولٞ مُّصَدِّقٞ لِّمَا مَعَكُمۡ لَتُؤۡمِنُنَّ بِهِۦ وَلَتَنصُرُنَّهُۥۚ قَالَ ءَأَقۡرَرۡتُمۡ وَأَخَذۡتُمۡ عَلَىٰ ذَٰلِكُمۡ إِصۡرِيۖ قَالُوٓاْ أَقۡرَرۡنَاۚ قَالَ فَٱشۡهَدُواْ وَأَنَا۠ مَعَكُم مِّنَ ٱلشَّـٰهِدِينَ


Urdu

یاد کرو، اللہ نے پیغمبروں سے عہد لیا تھا کہ، “آج ہم نے تمہیں کتاب اور حکمت و دانش سے نوازا ہے، کل اگر کوئی دوسرا رسول تمہارے پاس اُسی تعلیم کی تصدیق کرتا ہوا آئے جو پہلے سے تمہارے پاس موجود ہے، تو تم کو اس پر ایمان لانا ہوگا اور اس کی مدد کرنی ہوگی” یہ ارشاد فرما کر اللہ نے پوچھا، “کیا تم اِس کا اقرار کرتے ہو اور اس پر میری طرف سے عہد کی بھاری ذمہ داری اٹھاتے ہو؟” اُنہوں نے کہا ہاں ہم اقرار کرتے ہیں اللہ نے فرمایا، “اچھا تو گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں


English

And [recall, O People of the Scripture], when Allah took the covenant of the prophets, [saying], “Whatever I give you of the Scripture and wisdom and then there comes to you a messenger confirming what is with you, you [must] believe in him and support him.” [Allah] said, “Have you acknowledged and taken upon that My commitment?” They said, “We have acknowledged it.” He said, “Then bear witness, and I am with you among the witnesses


Tafsir — Bayan ul Quran

اللہ کو پانا ایک ابدی حقیقت کو پانا ہے،یہ پوری کائنات کا ہم سفر بننا ہے۔ جو لوگ اس طرح اللہ کو پالیں وہ ہر قسم کے تعصبات سے اوپر اٹھ جاتے ہیں۔ وہ حق کو ہر حال میں پہچان لیتے ہیں، چاہے اس کا پیغام ’’اسرائیلی پیغمبر‘‘ کی زبان سے بلند ہو یا ’’اسماعیلی پیغمبر‘‘ کی زبان سے۔ مگر جو لوگ گروہ پرستی کی سطح پر جی رہے ہوں، حق ان کو حق کی صورت میں صرف اس وقت نظر آتا ہے جب کہ وہ ان کے اپنے گروہ کے کسی فرد کی طرف سے آئے۔ اللہ اگر ان کے گروہ سے باہر کسی شخص کو اپنے پیغام کی پیغام رسانی کے لیے اٹھائے تو ایسا پیغام ان کے ذہن کا جزء نہیں بنتا۔ حتی کہ اس وقت بھی نہیں جب کہ ان کا دل اس کے حق وصداقت ہونے کی گواہی دے رہا ہو۔ ایسے لوگ خواہ اپنے کو ماننے والوں میں شمار کریں مگر اللہ کے یہاں ان کا نام نہ ماننے والوں میں لکھا جاتا ہے۔ کیوں کہ انھوں نے حق کو اپنے گروہ کی نسبت سے جانا، نہ کہ اللہ کی نسبت سے۔ ایسے حق کا اقرار نہ کرنا جس کے حق ہونے پر آدمی کے دل نے گواہی دی ہو، اللہ کے نزدیک بدترین جرم ہے۔ ایسے لوگ آخرت میں اتنے ذلیل ہوں گے کہ اللہ اور اس کی تمام مخلوقات ان پر لعنت کریں گی۔ اپنے سے باہر ظاہر ہونے والے حق کاا عتراف نہ کرنا بظاہر اپنے ایمان کو بچانا ہے۔ مگر حقیقۃً یہ اپنے ایمان کو برباد کرنا ہے۔ اللہ کا مومن بندہ اللہ کے مسلسل فیضان پر جیتا ہے۔ پھر جو شخص اپنے کو خود پرستی اور گروہ پرستی کے خول میں بند کرلے اس کے اندر اللہ کا فیضان کس راستہ سے داخل ہوگا۔ اور اللہ کے فیضان سے محرومی کے بعد وہ کیا چیز ہوگی جو اس کے ایمان کی پرورش کرے۔


Connections

  • Previous: 3_80
  • Next: 3_82
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes