Recitation
Next: 30_40
Arabic
وَمَآ ءَاتَيۡتُم مِّن رِّبٗا لِّيَرۡبُوَاْ فِيٓ أَمۡوَٰلِ ٱلنَّاسِ فَلَا يَرۡبُواْ عِندَ ٱللَّهِۖ وَمَآ ءَاتَيۡتُم مِّن زَكَوٰةٖ تُرِيدُونَ وَجۡهَ ٱللَّهِ فَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُضۡعِفُونَ
Urdu
جو سُود تم دیتے ہو تاکہ لوگوں کے اموال میں شامل ہو کر وہ بڑھ جائے، اللہ کے نزدیک وہ نہیں بڑھتا، اور جو زکوٰۃ تم اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے ارادے سے دیتے ہو، اسی کے دینے والے در حقیقت اپنے مال بڑھاتے ہیں
English
And whatever you give for interest to increase within the wealth of people will not increase with Allah. But what you give in zakah, desiring the countenance of Allah - those are the multipliers
Tafsir — Bayan ul Quran
مومن راحت اور مصیبت دونوں کو خدا کی طرف سے سمجھتاہے۔ اس ليے وہ دونوں حالتوں میں خدا کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ وہ راحت میں شکر کرتا ہے اور مصیبت میں صبر۔ اس کے برعکس، غیر مومن کا بھروسہ اپنے آپ پر ہوتا ہے۔ اس ليے وہ اچھے حالات میں نازاں ہوتا ہے اور جب اس کی قوتیں جواب دے جائیں تو وہ مایوسی کا شکار ہوجاتاہے۔ کیوں کہ اس کو محسوس ہوتاہے کہ اب اس کی آخری حد آگئی۔ یہ گویا فطرت کی شہادت ہے جو بتاتی ہے کہ پہلا ذہن حقیقی ذہن ہے اور دوسرا ذہن غیر حقیقی ذہن۔ مومن کی ایک پہچان یہ ہے کہ وہ اپنے مال کو رضائے الٰہی کےلیے خرچ کرتاہے۔ چنانچہ وہ اپنے مال میں دوسرے ضرورت مندوں کا بھی حصہ لگاتا ہے، خواہ وہ اس کے رشتہ دار ہوں یا غیر رشتہ دار۔ وہ اپنے مال کو آخرت کا نفع کمانے کےلیے خرچ کرتاہے، نہ کہ سود خواروں کی طرح صرف دنیا کا نفع کمانے کےلیے۔