Recitation

Next: 30_43


Arabic

قُلۡ سِيرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَٱنظُرُواْ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلُۚ كَانَ أَكۡثَرُهُم مُّشۡرِكِينَ


Urdu

(اے نبیؐ) اِن سے کہو کہ زمین میں چل پھر کر دیکھو پہلے گزرے ہوئے لوگوں کا کیا انجام ہو چکا ہے، ان میں سے اکثر مشرک ہی تھے


English

Say, [O Muhammad], “Travel through the land and observe how was the end of those before. Most of them were associators [of others with Allah]


Tafsir — Bayan ul Quran

ایک انسان کا پیدا ہونا، اس کو صبح وشام کا رزق ملنا، اس پر موت واقع ہونا، یہ واقعات اتنے عظیم ہیں کہ ان کے ظہور کےلیے کائناتی قوت درکار ہے۔ اور خالق کائنات کے سوا کوئی بھی مفروضہ ہستی ایسی نہیں جو اس قسم کی کائناتی قوت رکھتی ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ توحید اپنی دلیل آپ ہے اور شرک اپنی تردید آپ۔ اگر انسان ایک خدا کو اپنا معبود بنائے تو سب کا مرکز توجہ ایک ہوتاہے۔ اس سے انسانوں کے درمیان اتحادکی فضا پیدا ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، جب دوسرے دوسرے معبود بنائے جانے لگیں تو بے شمار چیزیں مرکز توجہ بن جاتی ہیں۔ اس سے افراد اور قوموں میں عناد اور اختلاف پیدا ہوتا ہے۔ خشکی اور سمندر اور فضا سب فساد سے بھر جاتے ہیں۔ انسان کی بے راہ روی کا مستقل انجام موت کے بعد سامنے آنے والا ہے۔ مگر انسان کی بے راہ روی کا وقتی انجام اسی دنیا میں دکھایا جاتا ہے تاکہ لوگوں کو یاد دہانی ہو۔


Connections

  • Previous: 30_41
  • Next: 30_43
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes