Recitation
Next: 30_57
Arabic
وَقَالَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡعِلۡمَ وَٱلۡإِيمَٰنَ لَقَدۡ لَبِثۡتُمۡ فِي كِتَٰبِ ٱللَّهِ إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡبَعۡثِۖ فَهَٰذَا يَوۡمُ ٱلۡبَعۡثِ وَلَٰكِنَّكُمۡ كُنتُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ
Urdu
مگر جو علم اور ایمان سے بہرہ مند کیے گئے تھے وہ کہیں گے کہ خدا کے نوشتے میں تو تم روزِ حشر تک پڑے رہے ہو، سو یہ وہی روزِ حشر ہے، لیکن تم جانتے نہ تھے
English
But those who were given knowledge and faith will say, “You remained the extent of Allah ‘s decree until the Day of Resurrection, and this is the Day of Resurrection, but you did not used to know
Tafsir — Bayan ul Quran
انسان پیدا ہوتا ہے تووہ نہایت کمزور بچہ ہوتاہے۔ پھر درمیان میں طاقت اور جوانی کے کچھ سال گزارنے کے بعد دوبارہ بڑھاپے کی کمزوری آجاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی طاقت اس کی اپنی نہیں ہے۔ وہ اس کو دینے سے ملتی ہے۔ یہ دینے والے کے اختیار میں ہے کہ وہ جب چاہے دے اور جب چاہے واپس لے لے۔ دنیا کی زندگی میں آدمی آخرت کےلیے فکر مند نہیں ہوتا ۔ کیوں کہ قیامت اس کو بہت دور کی چیز معلوم ہوتی ہے۔ مگر یہ صرف بے خبری کی بات ہے۔ قیامت جب آئے گی تو اس کو ایسا معلوم ہوگا کہ بس ایک گھڑی پچھلی دنیا میں رہنا ہوا تھا کہ اگلی دنیا کا مرحلہ پیش آگیا۔