Recitation

Next: 31_21


Arabic

أَلَمۡ تَرَوۡاْ أَنَّ ٱللَّهَ سَخَّرَ لَكُم مَّا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِ وَأَسۡبَغَ عَلَيۡكُمۡ نِعَمَهُۥ ظَٰهِرَةٗ وَبَاطِنَةٗۗ وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يُجَٰدِلُ فِي ٱللَّهِ بِغَيۡرِ عِلۡمٖ وَلَا هُدٗى وَلَا كِتَٰبٖ مُّنِيرٖ


Urdu

کیا تم لوگ نہیں دیکھتے کہ اللہ نے زمین اور آسمانوں کی ساری چیزیں تمہارے لیے مسخر کر رکھی ہیں اور اپنی کھلی اور چھپی نعمتیں تم پر تمام کر دی ہیں؟ اِس پر حال یہ ہے کہ انسانوں میں سے کچھ لوگ ہیں جو اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی عِلم ہو، یا ہدایت، یا کوئی روشنی دکھانے والی کتاب


English

Do you not see that Allah has made subject to you whatever is in the heavens and whatever is in the earth and amply bestowed upon you His favors, [both] apparent and unapparent? But of the people is he who disputes about Allah without knowledge or guidance or an enlightening Book [from Him]


Tafsir — Bayan ul Quran

موجودہ دنیا اس طرح بنی ہے کہ وہ انسان کےلیے کامل طورپر سازگار ہے۔ نیز یہ کہ موجودہ دنیا میں ہر وہ چیز افراط کے ساتھ موجود ہے جس کی انسان کو ضرورت ہے۔ اس کے باوجود انسان کا یہ حال ہے کہ وہ خالق کائنات کا شکر نہیں کرتا۔ وہ بے معنی بحثیں پیدا کرکے چاہتا ہے کہ لوگوں کی توجہ خدا کی طرف سے پھیر دے۔ انسان کے بے راہ ہونے کا سبب اکثر حالات میں یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی عقل کو کام میں نہیں لاتا۔ وہ رواج عام سے ہٹ کر نہیں سوچتا۔ آدمی اگر رواج سے اوپر اٹھ جائے تو خدا کی دی ہوئی عقل خود اس کو صحیح سمت میں رہنمائی کےلیے کافی ہوجائے۔


Connections

  • Previous: 31_19
  • Next: 31_21
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes