Recitation
Next: 32_18
Arabic
فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٞ مَّآ أُخۡفِيَ لَهُم مِّن قُرَّةِ أَعۡيُنٖ جَزَآءَۢ بِمَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ
Urdu
پھر جیسا کچھ آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ان کے اعمال کی جزا میں ان کے لیے چھپا رکھا گیا ہے اس کی کسی متنفس کو خبر نہیں ہے
English
And no soul knows what has been hidden for them of comfort for eyes as reward for what they used to do
Tafsir — Bayan ul Quran
ہدایت کے سلسلہ میں سب سے اہم چیز مادۂ اعتراف ہے۔ہدایت صرف ان لوگوں کو ملتی ہے جن کے اندر یہ مزاج ہو کہ جب سچائی ان کے سامنے آئے تو وہ فوراً اس کو مان لیں۔ خواہ سچائی بظاہر ایک چھوٹے آدمی کے ذریعہ سامنے آئی ہو، خواہ اس کو ماننا اپنے آپ کو غلط قرار دینے کے ہم معنی ہو، خواہ اس کو مان کر اپنی زندگی کا نقشہ درہم برہم ہوتا ہوا نظر آئے، جن لوگوں کے اندر یہ حوصلہ ہو وہی سچائی کوپالیتے ہیں۔ جو لوگ یہ چاہیں کہ وہ سچائی کو اس طرح مانیں کہ ان کی بڑائی بدستور قائم رہے ایسے لوگوں کو سچائی کبھی نہیں ملتی۔ جو آدمی حق کی خاطر اپنی بڑائی کو کھودے وہ سب سے بڑی چیز کو پالیتا ہے اور وہ خدا کی بڑائی ہے اس کی زندگی میں خدا اس طرح شامل ہو جاتا ہے کہ وہ اس کی یادوں کے ساتھ سوئے اور وہ اس کی یادوں کے ساتھ جاگے۔ اس کے خوف اور امید کے جذبات تمام تر خدا کے ساتھ وابستہ ہوجائیں۔ وہ اپنا اثاثہ اس طرح خدا کے حوالے کردیتا ہے کہ اس میں سے کچھ بچا کر نہیں رکھتا۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کی آنکھیں جنت کے ابدی باغوں میں ٹھنڈی ہوں گی۔