Recitation
Next: 32_28
Arabic
أَوَلَمۡ يَرَوۡاْ أَنَّا نَسُوقُ ٱلۡمَآءَ إِلَى ٱلۡأَرۡضِ ٱلۡجُرُزِ فَنُخۡرِجُ بِهِۦ زَرۡعٗا تَأۡكُلُ مِنۡهُ أَنۡعَٰمُهُمۡ وَأَنفُسُهُمۡۚ أَفَلَا يُبۡصِرُونَ
Urdu
اور کیا اِن لوگوں نے یہ منظر کبھی نہیں دیکھا کہ ہم ایک بے آب و گیاہ زمین کی طرف پانی بہا لاتے ہیں، اور پھر اسی زمین سے وہ فصل اُگاتے ہیں جس سے ان کے جانوروں کو بھی چارہ ملتا ہے اور یہ خود بھی کھاتے ہیں؟ تو کیا انہیں کچھ نہیں سوجھتا؟
English
Have they not seen that We drive the water [in clouds] to barren land and bring forth thereby crops from which their livestock eat and [they] themselves? Then do they not see
Tafsir — Bayan ul Quran
قدیم مکہ میں مشرکین ہر اعتبار سے غالب اور سر بلند تھے اور اسلام ہر اعتبار سے پست اور مغلوب ہورہا تھا۔ چنانچہ مشرکین اسلام اور مسلمانوں کا مذاق اڑاتے تھے۔ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے ایک مثال کے ذریعہ دیا۔فرمایا، کیا تم خدا کی اس قدرت کو نہیں دیکھتے کہ ایک زمین بالکل خشک اور چٹیل پڑی ہوتی ہے۔ بظاہریہ ناممکن ہوتا ہے کہ وہ کبھی سرسبزوشاداب ہوسکے گی۔ مگراس کے بعد خدا بادلوں کو لاکر اس کے اوپر بارش برساتا ہے تو چند دن میں یہ حال ہوجاتا ہے کہ جہاں خاک اڑ رہی تھی وہاں سبزہ لہلہانے لگتاہے۔ خدا کی یہی قدرت یہ بھی کرسکتی ہے کہ اسلام کو اس طرح فروغ دے کہ وہی وقت کا غالب فکر بن جائے۔