Recitation
Next: 32_5
Arabic
ٱللَّهُ ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٖ ثُمَّ ٱسۡتَوَىٰ عَلَى ٱلۡعَرۡشِۖ مَا لَكُم مِّن دُونِهِۦ مِن وَلِيّٖ وَلَا شَفِيعٍۚ أَفَلَا تَتَذَكَّرُونَ
Urdu
وہ اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اور اُن ساری چیزوں کو جو ان کے درمیان ہیں چھ دنوں میں پیدا کیا اور اس کے بعد عرش پر جلوہ فرما ہوا، اُس کے سوا نہ تمہارا کوئی حامی و مدد گار ہے اور نہ کوئی اُس کے آگے سفارش کرنے والا، پھر کیا تم ہوش میں نہ آؤ گے؟
English
It is Allah who created the heavens and the earth and whatever is between them in six days; then He established Himself above the Throne. You have not besides Him any protector or any intercessor; so will you not be reminded
Tafsir — Bayan ul Quran
چھ دنوں (چھ دوروں) میں پیدا کرنے سے مراد تدریج واہتمام کے ساتھ پیدا کرنا ہے۔ کائنات کی تدریجی تخلیق اور اس کا پر حکمت نظام بتاتا ہے کہ اس تخلیق سے خالق کاکوئی خاص مقصد وابستہ ہے۔ پھر کائنات میں مسلسل طورپر بے شمار عمل جاری ہیں۔ اس سے مزید یہ ثابت ہوتاہے کہ کائنات کو پیدا کرنے والا اس کو منصوبہ بند طورپر چلا رہا ہے۔ انسان ایک حیرت ناک قسم کازندہ وجود ہے مگر اس کے جسم کا تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتاہے کہ وہ صرف مٹی (ارضی اجزاء) کا مرکب ہے۔ پھر یہ ابتدائی تخلیق ختم نہیں ہوجاتی بلکہ توالد وتناسل کے ذریعہ اس کا سلسلہ مستقل طورپر جاری ہے۔ ان واقعات پر جو شخص غور کرے اس کے ذہن سے ایک خدا کی عظمت کے سوا دوسری تمام عظمتیں حذف ہوجائیں گی۔ وہ خدا کا شکر گزار بندہ بن جائے گا۔مگر بہت کم لوگ ہیں جو گہرائی کے ساتھ غور کریں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت کم لوگ ہیں جو حمد اور شکر والے بنیں۔