Recitation

Next: 33_25


Arabic

لِّيَجۡزِيَ ٱللَّهُ ٱلصَّـٰدِقِينَ بِصِدۡقِهِمۡ وَيُعَذِّبَ ٱلۡمُنَٰفِقِينَ إِن شَآءَ أَوۡ يَتُوبَ عَلَيۡهِمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ غَفُورٗا رَّحِيمٗا


Urdu

(یہ سب کچھ اس لیے ہوا) تاکہ اللہ سچوں کو اُن کی سچائی کی جزا دے اور منافقوں کو چاہے تو سزا دے اور چاہے تو ان کی توبہ قبول کر لے، بے شک اللہ غفور و رحیم ہے


English

That Allah may reward the truthful for their truth and punish the hypocrites if He wills or accept their repentance. Indeed, Allah is ever Forgiving and Merciful


Tafsir — Bayan ul Quran

رسول اور اصحاب رسول کی زندگیاں قیامت تک کے اہلِ ایمان کےلیے خدا پرستانہ زندگی کا نمونہ ہیں، اس بات کا نمونہ کہ اللہ اور آخرت کی امیدواری کے معنی کیا ہیں۔ اللہ کویاد کرنے کا مطلب کیا ہوتا ہے۔ مشکل حالات میں ثابت قدمی کسے کہتے ہیں۔ خدا کے وعدوں پر بھروسہ کس طرح کیا جاتا ہے۔ اضافہ پذیر ایمان کیا ہے اور وہ کیوں کر حاصل ہوتا ہے۔ خدا سے کيے ہوئے عہد کو پورا کرنے کا طریقہ کیا ہے۔ رسول اور اصحابِ رسول نے ان چیزوں کا آخری نمونہ قائم کردیا۔ شدید ترین حالات میں بھی انھوں نے کوئی کمزوری نہیں دکھائی۔ انھوں نے ہر معاملہ میں اسلامی فکر اور اسلامی کردار کا کامل ثبوت دیا۔ امتحان کا لمحہ آنے سے پہلے بھی وہ حق پر قائم تھے اور امتحان کا لمحہ آنے کے بعد بھی وہ حق پر قائم رہے۔ پھر رسول اور اصحاب رسول کی زندگیاں ہی اس بات کا نمونہ بھی ہیں کہ خدا کے یہاں کسی کا فیصلہ امتحان کے بغیر نہیں کیا جاتا۔ خدا کا طریقہ یہ ہے کہ وہ شدیدحالات پیدا کرتا ہے تاکہ سچے اہل ایمان اور جھوٹے دعوے دار ایک دوسرےسے الگ ہوجائیں۔ اس خدائی قانون میں نہ پہلے کسی کا استثناء تھا اور نہ آئندہ کسی کا استثناء ہوگا۔


Connections

  • Previous: 33_23
  • Next: 33_25
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes