Recitation
Next: 33_30
Arabic
وَإِن كُنتُنَّ تُرِدۡنَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَٱلدَّارَ ٱلۡأٓخِرَةَ فَإِنَّ ٱللَّهَ أَعَدَّ لِلۡمُحۡسِنَٰتِ مِنكُنَّ أَجۡرًا عَظِيمٗا
Urdu
اور اگر تم اللہ اور اس کے رسولؐ اور دار آخرت کی طالب ہو تو جان لو کہ تم میں سے جو نیکو کار ہیں اللہ نے ان کے لیے بڑا اجر مہیا کر رکھا ہے
English
But if you should desire Allah and His Messenger and the home of the Hereafter - then indeed, Allah has prepared for the doers of good among you a great reward
Tafsir — Bayan ul Quran
ہجرت نے مسلمانوں کی معاشیات کو درہم برہم کردیا تھا۔ مزید یہ کہ ہجرت کے بعد اسلام دشمنوں نے مسلمانوں کو مسلسل جنگ میں الجھا دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کی معاشی حالت بالکل برباد ہو کر رہ گئی۔ اس کا سب سے زیادہ اثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پرپڑا۔ آپ کے گھر والوں کا حال یہ ہوا کہ ناگزیر ضرورت کی فراہمی بھی مشکل ہوگئی۔ یہاں تک کہ آپ کی ازواج نے تنگ آکر آپ سے نفقہ (خرچ) کا مطالبہ شروع کردیا۔ ازواج کی طرف سے صرف ضروری خرچ کا مطالبہ کیاگیا تھا۔ اس کو اللہ نے زینتِ دنیا کے مطالبہ سے تعبیر فرمایا۔ یہ دراصل شدتِ اظہار ہے۔ اسی طرح ’’بے حیائی‘‘ کا لفظ بھی یہاں شدتِ اظہار کےلیے آیا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم تاریخ کے ایک اہم ترین مشن کی تکمیل پر مامور تھے، یعنی دورِ شرک کا خاتمہ اور دورِ توحید کا قیام۔ ایسی حالت میں کسی بھی دوسری چیز کو اہمیت دینا آپ کےلیے ممکن نہ تھا۔ اس ليے ازواجِ رسول سے فرمایاگیا کہ یا تو صبر اور قناعت کے ساتھ رسول کے ساتھ رہو۔ اور اگر یہ منظور نہیں ہے تو خوش اسلوبی کے ساتھ الگ ہوجاؤ۔ خانگی نزاع کھڑی کر کے پیغمبر کے ذہن کو منتشر کرنا کسی طرح بھی قابل برداشت نہیں۔